منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی آبی جارحیت میں مزید شدت آ گئی، دریائے نیلم کا پانی روک لیا

datetime 22  مئی‬‮  2025 |

نیلم (این این آئی)بھارت کی آبی جارحیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں حالیہ اقدامات کے تحت کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم کا پانی روک دیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔سیکورٹی اور مقامی حکام کے مطابق بھارتی اقدام کے باعث دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ معمول سے تقریباً 40 فیصد کم ہو چکا ہے۔

بھارت کا کشن گنگا ڈیم جو متنازعہ پانی کے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، ایک بار پھر پاکستان کے لیے ماحولیاتی اور آبی چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے حالیہ کشیدگی کے دوران وقتی طور پر ڈیم سے پانی چھوڑا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں اچانک پانی کی بندش سے وادی نیلم کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت اور زرعی سرگرمیوں پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بھارت نے دریائے چناب کو بیاس اور راوی کے نظام سے جوڑنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جو بین الاقوامی سطح پر سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی تصور کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے اس دیرینہ منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے حصے کے پانی کو محدود کر کے اسے ماحولیاتی و معاشی دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ 23 اپریل 2025 کو بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس کے بعد بھارت نے پانی کو بطور تزویراتی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…