پیر‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2025 

دنیا کے خطرناک ترین سیاحتی مقامات کون سے ہیں ،فہرست جاری،تاج محل بھی شامل

datetime 28  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(آن لائن) امریکی ادارے فوڈرز نے سیاحوں کے لیے ایک گائیڈ بک شائع کی ہے جس میں ان سیاحتی مقامات کی فہرست مرتب کی گئی ہے جہاں آپ کو نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محبت اور فن تعمیر کے شاہکار تاج محل کو تعمیر ہوئے 369 برس گزر چکے ہیں جس کی صفائی کا عمل کا آغاز اگلے برس یعنی 2018 کے اوائل میں شروع ہوگا، ایک خاص مٹی کے گارے سے تاج محل کی رگڑائی کی جائے گی

اور بعد ازاں اس کی دھلائی ہوگی۔اس سے قبل تاج محل کی صفائی کا معاملہ سطحی نوعیت کا ہوتا تھا لیکن اب تاج محل کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مکمل صفائی میں تقریبا ایک سال درکار ہوگا، اس لیے اگر تاج محل آپ کی سیاحتی فہرست میں ہے تو کم ازکم ایک برس تک اپنے دورے کو ملتوی کردیں ورنہ تاج محل کی دھلائی میں آپ کی تصویر بھی دھندلی آئیں گی۔دنیا بھر میں گالا پاگوز اپنے تیوری اور تیکھے مزاج کی وجہ سے بہت مشہور ہے, جزیرہ ایکواڈور کا صوبہ گالا پاگوز آتش فشاں جزیرے پر قائم ہے اور وائلڈ لائف کے اعتبار سے لوگوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔لیکن فوڈرز نے گالا پاگوز کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ اس جزیرے کا ماحولیاتی نظام بری طرح متاثر ہورہا ہے اس لیے یہاں جاتے ہوئے بھی احتیاط اختیار کریں۔پانی پر بسا اٹلی کا شہر وینس اور فن تعمیر کا شاہکار نیدر لینڈ کا دارالحکومت ایمسٹر ڈیم ان دنوں سیاحوں کے لiے موزوں جگہ نہیں ہے۔ان مقامات پر سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد امنڈ آتی ہے کہ مقامی شہری کی پرسکون زندگی برباد ہو کر رہ جاتی ہے اس لیے کئی مقامات پر مقامی شہریوں اور سیاحوں کے مابین زبردست تلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا ہے۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ اسی وجوہات کی بنا پر کچھ وقت کے لیے آپ ان مقامات کی سیاحت کا ارادہ ترک کردیں، اگر آپ اپنی چھٹیاں سکون اور پرکیف گزارنا چاہتے ہیں۔فوڈور کی رپورٹ کے مطابق سال بھر جنت نظیر مقام پہانگ گا پر سیاحوں کا تانتا

بندھا رہتا ہے اور اسی وجہ سے تھائی لینڈ کے بیشتر ساحل ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہوئے ہیں۔انتظامیہ کو سیاحوں کی مد میں آنے والے سرمائے کی بہت فکر ہے اس لیے انہوں نے ساحلوں اور جزیروں کی آبی صفائی کی مہم کا آغاز کیا ہے، اس لیے آپ اپنی چھٹیوں کو انجوائے کرنے کے لیے تھائی لینڈ کے کسی دوسرے جزیرے کو منتخب کرلیں۔آپ کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ میانمار بھی ان خوبصورت مقامات کی فہرست میں شامل ہے جہاں سالانہ

لاکھوں سیاح آتے ہیں لیکن میانمار فوج کی جانب سے راکھائن کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد دنیا بھر کے سیاحت کے دلدادہ افراد نے اس ملک کا رخ کرنے میں احتیاط کی ہے۔فوڈرز نے تجویز دی ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی چھوٹی چوٹیوں کو سر کرنے میں فی سیاح کا خرچہ تقریبا 25 ہزار ڈالر سے 45 ہزار ڈالر ہوتا ہے اور ان چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش میں رواں برس 6 سیاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس لیے رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آپ سیاح بنے تاہم اپنی جان کے دشمن مت بنیں۔

موضوعات:



کالم



گوٹ مِلک


’’تم مزید چارسو روپے ڈال کر پوری بکری خرید سکتے…

نیوٹن

’’میں جاننا چاہتا تھا‘ میں اصل میں کون ہوں‘…

غزوہ ہند

بھارت نریندر مودی کے تکبر کی بہت سزا بھگت رہا…

10مئی2025ء

فرانس کا رافیل طیارہ ساڑھے چار جنریشن فائیٹر…

7مئی 2025ء

پہلگام واقعے کے بارے میں دو مفروضے ہیں‘ ایک پاکستان…

27ستمبر 2025ء

پاکستان نے 10 مئی 2025ء کو عسکری تاریخ میں نیا ریکارڈ…

وہ بارہ روپے

ہم وہاں تین لوگ تھے‘ ہم میں سے ایک سینئر بیورو…

محترم چور صاحب عیش کرو

آج سے دو ماہ قبل تین مارچ کوہمارے سکول میں چوری…

شاید شرم آ جائے

ڈاکٹرکارو شیما (Kaoru Shima) کا تعلق ہیرو شیما سے تھا‘…

22 اپریل 2025ء

پہلگام مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا چھوٹا…

27فروری 2019ء

یہ 14 فروری 2019ء کی بات ہے‘ مقبوضہ کشمیر کے ضلع…