جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنیکا انعام،اسرائیل حرم الشریف میں ٹرمپ کے نام پر کیا چیز بنانے جارہا ہے،مسلمانوں میں شدید غم وغصہ

datetime 28  دسمبر‬‮  2017 |

مقبو ضہ بیت المقدس(آن لائن)اسرائیل کے وزیرِ ٹرانسپورٹ یروشلم کے قدیم شہر تلے زیرِ زمین ریلوے ٹریک بنانا چاہتے ہیں اور مغربی دیوار کے قریب سٹیشن کو ‘ٹرمپ سٹیشن’ کا نام دینا چاہتے ہیں۔یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حوالے سے اعزاز دینا چاہتے ہیں۔مجوزہ ٹرین ٹریک اور سٹیشن تیل ابیب سے آنے والی ہائی سپیڈ ٹرین سے منسلک ہوگا

اور آئندہ سال اس کا افتتاح متوقع ہے۔واضح رہے کہ یروشلم میں اس کمپاؤنڈ کو مسلمان حرم الشریف جبکہ یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کمپاؤنڈ کی مغربی دیوار کے باہر اکثر یہودیوں کی عبادت میں مصروف تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں اس کے زیرِ زمین کام کرنے پر فلسطینیوں نے احتجاج کیا ہے۔ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ تیل ابیب کی ٹرین لائن میں یہ اضافہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کا اہم قومی پروجیکٹ ہے۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عالمی برادری نے اس فیصلے پر منفی ردِ عمل ظاہر کیا۔گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ‘باطل اور کالعدم’ ہے اس لیے منسوخ کیا جائے۔یہ دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔مسیحی سمجھتے ہیں کہ

حضرت عیسیٰ کو یہیں مصلوب کیا گیا تھا اور یہیں ان کا سب سے مقدس کلیسا واقع ہے۔مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر اسلام نے معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت کی تھی۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار برس تک اس شہر پر قبضے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔فلسطینی اور اسرائیلی تنازعے کے مرکز میں قدیم یروشلم شہر ہی ہے۔

یہاں کے حالات میں معمولی سی تبدیلی بھی کئی بار تشدد اور بڑی کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یروشلم میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اہم ہو جاتا ہے۔یہ شہر نہ صرف مذہبی طور پر اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔زیادہ تر اسرائیلی یروشلم کو غیر منقسم اور بلا شرکت غیرے اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں۔

اسرائیل کا ایک ملک کے طور پر سنہ 1948 میں قیام عمل میں آیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ کو شہر کے مغربی حصے میں قائم کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کر لیا۔اس کے ساتھ قدیمی شہر بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے قبضے کو تسلیم نہیں

کیا گیا۔یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس پر اسرائیلی رہنما اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔فلسطینیوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وہ مشرقی یروشلم کو مستقبل کا اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اور اسرائیلی اور فلسطینی کے درمیان امن مذاکرات میں اس پر رضامندی کی بات بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…