پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک کا غیر ملکی زائرین اور کھیلوں کے شائقین کوشراب پینے کی اجازت دینے پرغور

datetime 27  دسمبر‬‮  2017 |

دوحہ (آن لائن)قطرکی حکومت نے سنہ 2022ء میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو بچانے اور بائیکاٹ کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے غیرملکی زائرین اور شائقین کوکھیلوں کے دوران شراب پینے کی اجازت دینے پر غورشروع کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی فٹ بال فیڈریشن ’فیفا‘ اور شراب تیار کرنے والی بعض کمپنیوں کی ٹیمیں آئندہ سال کے اوائل میں قطر کا دورہ کریں گی جہاں یہ ٹیمیں غیرملکی تماشائیوں کے لیے مختص علاقوں میں بھی جائیں گی۔ ان ٹیموں کی طرف سے الکحل کی فراہمی کو یقینی بنانے

کے لیے قطری حکام کے ساتھ بات چیت بھی ہوگی۔برطانی اخبار ’دا سن’ کے مطابق فیفا اور ایک غیرملکی شراب کمپنی کے مندوبین نے قطر کی فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کی نگراں کمیٹی سے درخواست کی ہے کہ وہ تماشائیوں کو ٹھہرانے کے مقامات کے قریب شراب لانے اور اسے استعمال کرنے کی اجازت فراہم کرے۔اخبار نے قطری پروجیکٹ کمیٹی کے سیکرٹری جنرل حسن الذوادی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ورلد کپ کے دوران مخصوص مقامات پر شراب پیش کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انگلش یونائیڈ کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر شراب کی اجازت نہ دی گئی تو مغربی تماشائی قطر کا رخ نہیں کریں گے۔عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطری حکومت ورلڈ کپ کیدوران بیرون ملک سے آنے والے زائرین اور تماشائیوں کو شراب کے استعمال کی اجازت دے گی مگرشراب کھیل کے میدانوں سے ایک گھنٹے کی مسافت پر دی جائیگی۔ انگلش یونائیڈ کے عہدیدار نے کہا کہ اگر قطر کا یہ رویہ رہا تو کھیل کے موقع پر اس کا بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔بین الااقوامی فٹ بال فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ توقع ہے

کہ 2022ء4 کے فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران قطری حکومت تماشائیوں کو ان کے مرغوب کھانوں کی فراہمی کا اہتمام کرے گی۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنےآئی ہےجب قطر کے خلاف عالمی سطح پر فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کے حوالے سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض قطری عہدیدار سنہ 2022ء کے بین الاقوامی فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو کو خطرے میں سمجھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…