جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ساتھی کلاس فیلو سے گلے ملنے پر طالبعلم کو سکول سے نکال دیا گیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں بارہویں جماعت کے طالب علم کو اپنی کلاس فیلو دوست کو گلے ملنے پر سکول سے نکال دیاگیا،بھارتی ٹی وی کے مطابق متاثرہ طالب علم امت نے بتایاکہ سکول کا کام تھا، میری دوست کام کر رہی تھی، کام ختم ہونے کے بعد میں نے پوچھا کہ تم نے کیسے کیا؟ پھر میں نے اسے گلے لگایا اور تعریف کی کیا کسی کو گلے لگانا اور یہ کہنا کہ آپ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جرم ہے؟

امت جو 12 ویں کے طالب علم ہیں یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ انھوں نے ایسا کیا غلط کیا جس کی وجہ سے انھیں سکول سے نکال دیا گیا۔امت نے کہاکہ میرے دماغ میں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔ میں نے اسے اساتذہ کے کمرے کے باہر گلے لگایا۔کیرالا کے ایک سکول کے دو بچوں کو اگست میں سکول سے معطل کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ان بچوں نے چائلڈ رائٹس کمیشن کی مدد لی۔ تاہم گذشتہ ہفتے کیرالا ہائی کورٹ نے سکول کے حق میں فیصلہ دے دیا۔امت نے کہاکہ میں اسے مبارکباد دے رہا تھا۔ تبھی وہاں سے ایک استانی گزریں اور ہمیں دیکھتے ہی وہ کچھ اس طرح چیخنے لگیں جیسے ہم کچھ غلط کر رہے ہوں۔ انھوں نے ہم سے کچھ پوچھا ہی نہیں اور براہ راست وائس پرنسپل کے پاس لے گئیں۔ ہم نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ ہم ایسا ویسا کچھ نہیں کر رہے تھے۔ ہم معمول کے مطابق مل رہے تھے۔امت کی دوست ساریتا نے بتایا کہ ان پر امت کے خلاف ایک بیان دینے پر زور دیا گیا تھا۔ انھیں بتایا گیا تھا کہ انھیں یہ کہنا چاہیے کہ امت نے انھیں اس کی مرضی کے خلاف گلے لگایا۔امت کے مطابق اب صورت حال یہ ہے کہ ’انھوں نے ہماری تصاویر پبلک کر دی ہیں، اس کی وجہ سے دوسرے سکولوں میں داخلہ نہیں مل رہا۔ سب کہہ رہے ہیں کہ میں نے اسے پانچ منٹ تک باںہوں میں جکڑے رکھا، کیا یہ ممکن ہے؟ کوئی مجھے پڑھنے یا امتحان دینے سے نہیں روک سکتا۔ اب میں ہائی کورٹ تک جاؤں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…