جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کی دھمکیاں ہمیں جھکا نہیں سکتیں،نہ ہی ڈالروں کے ذریعے ہمیں خریدا جاسکتا ہے

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

انقرہ،نیویارک (ویب ڈیسک،آن لائن)ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ نام نہاد جمہوریت کا دعویدار امریکہ اپنے ڈالروں اور دھمکیوں کے زور پر کئی ممالک کی خواہشات خریدنے کے لئے  لگا ہے ، لیکن ہم اسے بتا دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ کی گیدڑ بھبکیاں ہمیں جھکا نہیں سکتیں اور نہ ہی واشنگٹن ڈالر کے ذریعے ہمیں خرید سکتا ہے،مجھے امید ہے اس بار دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ضرور سبق سکھائے گی۔غیر ملکی میڈیا

رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان کا مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پرامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کاجواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹرمپ تم ڈالرز کے زرو پر ترکی کی جمہوری خواہشات کو خرید نہیں سکتے ، القدس پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے ، میری تمام دنیا کے تمام ممالک سے اپیل ہے کہ وہ اپنی خواہشات کوچند ڈالرز کے عوض مت فروخت کریں۔جمہوریت یہ نہیں کہ کسی کی خواہش اور مرضی کو دولت کے بل بوتے پر فروخت کیا جائے،پوری دنیا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ مجھے  یقین ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں امریکی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں آئے گا اور دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کو اچھا سبق سکھائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کام نہ آئی ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں 193 ممبران ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکا کے متنازع فیصلے پر ووٹ ڈالے۔ ترکی اور یمن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 128 ووٹ ڈالے گئے جب کہ 9 ممالک نے اس کی

مخالفت کی اور 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی مالی امداد روک لی جائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ہم سے لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے

خلاف ووٹ دیتے ہیں، انہیں ایسا کرنے دیں، ہم اس ووٹنگ کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے خلاف ووٹ دیا گیا تو اس کی کوئی پروا نہیں ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے۔خیال رہے کہ 18 دسمبر کو سلامتی کونسل میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق متنازع امریکی فیصلہ مسترد کرنے کی درخواست امریکا نے ویٹو کردی تھی۔جب کہ امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے، جس میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق کسی بھی فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔اقوام متحدہ

میں امریکی نمائندہ خصوصی نکی ہیلے نے سلامتی کونسل میں درخواست ویٹو کرنے کے بعد مختلف سفیروں کو دھمکی آمیز خطوط لکھے۔نکی ہیلی نے اپنے خطوط میں لکھا کہ جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرنے و الے ممالک کے نام صدر ٹرمپ کو بتاؤں گی اور مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرارداد پر ایک ایک ووٹ کا حساب رکھا جائے گا۔امریکی نمائندہ خصوصی نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک ٹوئٹ بھی کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ

ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے لکھا کہ جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے، جمعرات کو ہمارے انتخاب پر تنقیدی ووٹ ڈالا جائے گا اور امریکا ایسے ممالک کے نام لے گا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…