پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

افغانستان کے اہم ترین صوبے کے گورنر نے بغاوت کردی،اشرف غنی کے احکامات قبول کرنے سے انکار،بڑا اعلان کردیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان صوبہ بلخ کے بااختیار گورنر عطا محمد نور نے ملکی صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے استعفی قبول کیے جانے کے بعد عہدے سے برطرف ہونے سے انکار کر دیا ، گورنر عطا محمد نورگزشتہ 16 برسوں سے اس عہدے پر براجمان ہیں، ان کا شمار ایک ایسی سرمایہ دار اور بااختیار شخصیت کے طور پر ہوتا ہے، جس کے پاس مسلح حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حالیہ تنازعہ

اس وقت پیدا ہوا جب دو روز قبل مقامی حکومتوں کے خود مختار ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اعلان کیا گیا کہ صدر غنی نے گورنر عطا محمد نور کا استعفی قبول کر لیا ہے اور انجینئر داؤد کو بلخ کے نئے گورنر کی حیثیت سے منتخب کر لیا ہے۔ انفرادی طور پر عطا محمد نور اور صوبے میں ان کے حامی عہدیداروں نے فیصلہ ماننے سے واضح انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان متعین غیر ملکی افواج کو مداخلت نہیں کرنے کا کہا اور اپنے عہدے کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ۔ دارالحکومت کابل میں ان کی جماعت کے صدر اور ملکی وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے ہنگامی اجلاس کے بعد صدر غنی پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر پھر سے غور کریں اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی ہے کہ دوسری صورت میں ‘جمعیت’ حکومت سے علیحدہ ہوجائے گی، جس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے ذمہ دار صدر مملکت خود ہوں گے۔  گورنر عطا محمد نور نے ملکی صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے استعفی قبول کیے جانے کے بعد عہدے سے برطرف ہونے سے انکار کر دیا ، گورنر عطا محمد نورگزشتہ 16 برسوں سے اس عہدے پر براجمان ہیں، ان کا شمار ایک ایسی سرمایہ دار اور بااختیار شخصیت کے طور پر ہوتا ہے، جس کے پاس مسلح حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ حالات کے ذمہ دار صدر مملکت خود ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…