جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کے اہم ترین صوبے کے گورنر نے بغاوت کردی،اشرف غنی کے احکامات قبول کرنے سے انکار،بڑا اعلان کردیا

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان صوبہ بلخ کے بااختیار گورنر عطا محمد نور نے ملکی صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے استعفی قبول کیے جانے کے بعد عہدے سے برطرف ہونے سے انکار کر دیا ، گورنر عطا محمد نورگزشتہ 16 برسوں سے اس عہدے پر براجمان ہیں، ان کا شمار ایک ایسی سرمایہ دار اور بااختیار شخصیت کے طور پر ہوتا ہے، جس کے پاس مسلح حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حالیہ تنازعہ

اس وقت پیدا ہوا جب دو روز قبل مقامی حکومتوں کے خود مختار ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اعلان کیا گیا کہ صدر غنی نے گورنر عطا محمد نور کا استعفی قبول کر لیا ہے اور انجینئر داؤد کو بلخ کے نئے گورنر کی حیثیت سے منتخب کر لیا ہے۔ انفرادی طور پر عطا محمد نور اور صوبے میں ان کے حامی عہدیداروں نے فیصلہ ماننے سے واضح انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان متعین غیر ملکی افواج کو مداخلت نہیں کرنے کا کہا اور اپنے عہدے کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ۔ دارالحکومت کابل میں ان کی جماعت کے صدر اور ملکی وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے ہنگامی اجلاس کے بعد صدر غنی پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر پھر سے غور کریں اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی ہے کہ دوسری صورت میں ‘جمعیت’ حکومت سے علیحدہ ہوجائے گی، جس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے ذمہ دار صدر مملکت خود ہوں گے۔  گورنر عطا محمد نور نے ملکی صدر محمد اشرف غنی کی جانب سے استعفی قبول کیے جانے کے بعد عہدے سے برطرف ہونے سے انکار کر دیا ، گورنر عطا محمد نورگزشتہ 16 برسوں سے اس عہدے پر براجمان ہیں، ان کا شمار ایک ایسی سرمایہ دار اور بااختیار شخصیت کے طور پر ہوتا ہے، جس کے پاس مسلح حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ حالات کے ذمہ دار صدر مملکت خود ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…