جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں حالات خراب،لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبورہوگئے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس سال افغانستان میں چار لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اس کی وجہ وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی برس سے جاری لڑائی ہے، جو مزید طول پکڑتی جا رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر امداد سے متعلق ادارے نے کہاکہ صرف گزشتہ ہفتے ہی 12300 افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بے گھر ہو جانے والے رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد کا 31 فیصد حصہ ان افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے اب تک ملک کے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں اپنے گھروں کو خیر باد کہا۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ملک میں ایک بار پھر مسلح کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر سے ملنے والی خبروں میں یہ تفصیلات بھی شامل ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا اور اس کے کے ا اثرات برآمد ہوئے۔ مثلاً گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے متنازعہ علاقے سرے پْل سے سات ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسی عرصہ میں افغانستان کے شمالی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں شدت پسند تنظیموں طالبان اور اسلامک اسٹیٹ کے درمیان مسلح تصادم کے باعث ساڑھے چار ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ایک اندازے کے مطابق جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان میں گزشتہ برس مجموعی طور پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر گئے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں برس بھی اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس سال افغانستان میں چار لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اس کی وجہ وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…