پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

افغانستان میں حالات خراب،لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبورہوگئے،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس سال افغانستان میں چار لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اس کی وجہ وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی برس سے جاری لڑائی ہے، جو مزید طول پکڑتی جا رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر امداد سے متعلق ادارے نے کہاکہ صرف گزشتہ ہفتے ہی 12300 افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بے گھر ہو جانے والے رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد کا 31 فیصد حصہ ان افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے اب تک ملک کے نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں اپنے گھروں کو خیر باد کہا۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ملک میں ایک بار پھر مسلح کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر سے ملنے والی خبروں میں یہ تفصیلات بھی شامل ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوا اور اس کے کے ا اثرات برآمد ہوئے۔ مثلاً گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے متنازعہ علاقے سرے پْل سے سات ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسی عرصہ میں افغانستان کے شمالی صوبوں ننگرہار اور کنڑ میں شدت پسند تنظیموں طالبان اور اسلامک اسٹیٹ کے درمیان مسلح تصادم کے باعث ساڑھے چار ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ایک اندازے کے مطابق جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان میں گزشتہ برس مجموعی طور پر چھ لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد نقل مکانی کر گئے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں برس بھی اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس سال افغانستان میں چار لاکھ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اس کی وجہ وہاں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…