جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں پر ’’بم‘‘ گرادیا، غیر ملکی ملازمین ہر مہینے کتنے سو ریا ل سعودی حکومت کو ادا کرینگے،نیا قانون 2018کے آغاز میں ہی لاگو ہوجائیگا

datetime 19  دسمبر‬‮  2017 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں 2018 سے نجی اداروں کے غیر ملکی ملازمین سے ماہانہ 400ریال کی وصولی شروع ہوجائیگی۔سعودی وزارت خزانہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ نجی اداروں کے غیر ملکی ملازمین  سے وصول کی جانیوالی مذکورہ رقم سعودی عملے کی تقرری پر آنیوالے اخراجات میں صرف کی جائیگی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وصولی 2018 کے قومی بجٹ کے تحت ہوگی۔سعودی وزارت

خزانہ کے مطابق ایسی نجی کمپنی جس میں غیر ملکی ملازموں کی تعداد سعودی ملازمین کی تعداد سے زیادہ ہوگی اس سے فی غیر ملکی ملازم ماہانہ 400ریال وصول کئے جائیں گے جبکہ سعودی ملازمین سے غیر ملکی ملازمین کی تعداد کم ہونے کی صورت میں فی غیر ملکی کارکن ماہانہ 300ریال لئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق 2018 کے بعد یعنی 2019ء کے دوران ایسی کمپنی سے جس میں سعودی ملازمین کی تعداد غیر ملکیوں سے کم ہوگی فی غیر ملکی کارکن 600ریال اور ایسی کمپنی سے جس میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی ملازموں سے کم ہوگی فی غیر ملکی کارکن500ریال ماہانہ وصول کئے جائیں گے۔2020ء میں ایسی کمپنیوں سے جن میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی ملازمین  سے زیادہ ہوگی فی غیر ملکی کارکن800ریال ماہانہ لئے جائیں گے اور اگر کمپنی میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی کارکنان سے کم ہوگی تو ایسی حالت میں فی غیر ملکی کارکن 700ریال وصول کئے جائیں گے،واضح رہے کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔لاکھوں افراد نجی کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں ۔یہ خبر جونہی  مقامی میڈیا پر آئی ان پر بجلی گر گئی کیونکہ ماہانہ700 روپے ریال فی ملازم وصولی بہت زیادہ ہے ۔فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاکستانیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔اکثریت نے پاکستان واپسی پر سوچ و بچار شروع کردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…