جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت باز نہ آیا تو پھر۔۔ چینی جنرل کا ایسا اعلان کہ بھارت لرز کر رہ گیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2017 |

بیجنگ (آئی این پی ) بھارت نے اگر سبق نہ سیکھا تو اس کے اقدامات سے با لآخر چین بھارت تعلقات کو نقصان پہنچے گا ،بھارت کا شکریہ کہ اس نے حالیہ ڈوکلام تنازعہ کے بعد مغربی حصے میں چین کو اپنی حکمت عملی بہتر بنانے پر مجبور کر دیا ہے ، چین کے مغربی بارڈر پر کئی کمزوریاں تھیں لیکن ڈوکلام تنازعے کے بعد چین نے ان پر قابو پالیا ہے کیونکہ ڈوکلام تنازعہ کی اصل وجہ

بھارتی اقدامات ہیں ۔ان خیالات کا اظہار چینی اکیڈیمی آف ملٹری سائنسز کے میجرجنرل پینگ گوانگ کیان نے یہاں سالانہ گلوبل ٹائمز فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کیلئے بھارت کا شکرگزار ہونا چاہئے۔پیپلز لبریشن آرمی کی اکیڈیمی آف ملٹری سائنسز کے ریسرچ فیلو زائو زیائو زو کا کہنا ہے کہ بھارت تبت کو چین کے بفرزون کے طورپر لیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے اس وقت زبردست رد عمل کا اظہار کیا جب چین نے تبت میں ریلوے اور ہائی ویز کی تعمیر کا آغاز کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کبھی بھی سڑکوں کی تعمیر کو ایک اچھے موقع کے طورپر نہیں لیتا اور وہ رابطوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ، بھارت صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے لیکن اگر بھارت نے حالات سے سبق نہ سیکھا تو اس کے یہ اقدامات آخر کار دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی چینی مرکز اور جنوب مشرقی ایشین سٹیڈیز کے پروفیسر بالی رام دیپک نے ایک درمیانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور بھارت میں مقابلہ اور تعاون جاری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں دوست ہیں نہ دشمن ،ڈوکلام تنازعہ کے پس منظر میں بالی رام دیپک نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین بھارت کو کمتر سمجھتا ہے اور بھارت چین کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…