جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈھاکہ بھی پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا،سقوط ڈھاکہ کے روز پاکستان کی حمایت میں ریلی نکالنے والوں کے ساتھ کر کیاہو گیا، جان کر آپ کی بھی آنکھیں بھیگ جائینگی

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلہ دیش بھارت نوازی میں ہر حد پار کر گیا، سقوط ڈھاکہ کے دن پاکستان کی محبت میں ریلی نکالنے والے طلبا کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی والے دن سقوط ڈھاکہ کی یاد اور پاکستان کی محبت میں ریلی نکالنے والے 20طلبہ کو بنگلہ دیشی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کی یاد اور پاکستان کی محبت میں ریلی

نکالنے والے طلبا کا تعلق اسلامی چھاترو شبیری نامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سٹوڈنٹ ونگ سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان طلبا کو اس لئے گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ یہ بنگلہ دیش مخالف یعنی پاکستانی حمایت میں ریلی نکالنے کے لیے جمع ہوئے۔چٹاگانگ کی کوٹوال پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد جاسم الدین کے مطابق طلبہ نے شہید مینار پر توڑ پھوڑ اور ہنگامہ کرنے کا پروگرام بھی بنا رکھا تھا۔تاہم دوسری جانب طلبہ تنظیم کے چٹاگانگ کے یونٹ رہنما نورالامین نے پولیس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکنان تو آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے کیلئے جمع ہوئے تھے۔خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نی2010 میں متنازع جنگی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جس نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کو پھانسی اور سزائیں سنائیں۔علاوہ ازیں بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالت نے 2013 میں جماعت اسلامی کے منشور کو ملک کے سیکولر آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی جبکہ حسینہ واجد حکومت کے ہی دور میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو بنگلہ دیش میں متنازع فیصلوں پر سزائے موت اور پھانسیاں دی جا چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…