پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

فیس بک کے ساتھ کام کرنا گناہ کبیرہ تھا،کیئے پر شرمند ہوں،طویل عرصے کیلئے بند کردیاجائے،سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائیٹ فیس بک کے ایک سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے کو تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے فیس بک کے ساتھ سرگرم رہنے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے،دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے

کمپنی کے سابق سینئر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ چامتھ پالیھا پیٹیا چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ فیس بک نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق اسٹانفرڈ یونیو رسٹی میں لیکچر کے دوران فیس بک کے سابق سینیر عہدیدار چامتھ پالیھا پیٹیا نے کہا کہ میں نے خود بھی نیلی ویب سائیٹ(فیس بک) استعمال کرنا چھوڑ دی اور اپنے بچوں کو بھی اسے منع کردیا ہے۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے سوشل فیبرک کو تباہ کرنے کے آلات ایجاد کیے ہیں۔ ان کا اشارہ فیس بک اور اس قبیل کی دوسری ویب سائیٹس کی طرف تھا۔ انہوں نے پالیھا پیٹیا نے بتایاکہ وہ فیس بک میں صارفین میں اضافے کے نگران تھے اور 2007ء سے 2011ء تک فیس بک کے ساتھ کام کیا۔ آج میں فیس بک کے ساتھ کام کرنیکو گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف فیس بک بلکہ تمام سوشل ویب سائیٹس کو لمے عرصے لے لیے بند کردیا جائے۔دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کمپنی کے سابق سینیر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چامتھ پالیھا پیٹیا چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ فیس بک نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…