جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فیس بک کے ساتھ کام کرنا گناہ کبیرہ تھا،کیئے پر شرمند ہوں،طویل عرصے کیلئے بند کردیاجائے،سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائیٹ فیس بک کے ایک سابق ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر نے سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے کو تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے فیس بک کے ساتھ سرگرم رہنے پر شرمندگی کا اظہار کیا ہے،دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے

کمپنی کے سابق سینئر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ چامتھ پالیھا پیٹیا چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ فیس بک نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق اسٹانفرڈ یونیو رسٹی میں لیکچر کے دوران فیس بک کے سابق سینیر عہدیدار چامتھ پالیھا پیٹیا نے کہا کہ میں نے خود بھی نیلی ویب سائیٹ(فیس بک) استعمال کرنا چھوڑ دی اور اپنے بچوں کو بھی اسے منع کردیا ہے۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے سوشل فیبرک کو تباہ کرنے کے آلات ایجاد کیے ہیں۔ ان کا اشارہ فیس بک اور اس قبیل کی دوسری ویب سائیٹس کی طرف تھا۔ انہوں نے پالیھا پیٹیا نے بتایاکہ وہ فیس بک میں صارفین میں اضافے کے نگران تھے اور 2007ء سے 2011ء تک فیس بک کے ساتھ کام کیا۔ آج میں فیس بک کے ساتھ کام کرنیکو گناہ کبیرہ سمجھتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف فیس بک بلکہ تمام سوشل ویب سائیٹس کو لمے عرصے لے لیے بند کردیا جائے۔دوسری جانب فیس بک کے مالک اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے کمپنی کے سابق سینیر عہدیدار کے بیانات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ چامتھ پالیھا پیٹیا چھ سال سے کمپنی سے دور ہیں۔ ان کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔ فیس بک نے معاشروں کو تباہ نہیں بلکہ آپس میں جوڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…