جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا پبلک سروس کمیشن امتحانات کے لیے سوالات بھی خود نہ بنا سکا، نوے فیصد سوالات پاکستان ویب سائٹ سے نقل کرکے چھاپ دیے، بھارتی میڈیا چیخ اٹھا

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں پبلک سروس کمیشن کے تحت لیے گئے امتحانات میں پاکستانی ویب سائٹ سے سوال نقل کیے گئے، تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ ارونا چل پردیش پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیے گئے امتحان میں سوالات پاکستان کی ایک ویب سائٹ سے نقل کیے گئے،

پبلک سروس کمیشن کے تحت امتحان دینے والے امیدواروں نے کہا کہ کچھ سوالات 2008 کے یونین پبلک سروس کمیشن کے امتحانوں سے نقل کیے گئے تھے جب کہ سماجیات کے 90 فیصد سوالات مبینہ طور پر ایک آن لائن ڈسکشن فورم سے لیے گئے ، پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں عمومی تاریخ، سماجیات اور سیاسیات کے کچھ سوالات بھی غیر ملکی تناظر میں تھے، ایک امیدوار نے امتحانات کے بارے میں کہا کہ زیادہ تر پیپر فوٹو کاپی تھے، جب ہم نے چیک کیا تو پتہ چلا کہ یہ سوالات پاکستانی ویب سائٹ سے نقل کیے گئے تھے، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پرچہ جات مرتب کرتے وقت کاپی پیسٹ سے کام چلایا گیا جو کہ غیر قانونی عمل ہے، اس حوالے سے ریاست اروناچل پردیش میں دوبارہ امتحان کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے باعث سیکرٹری پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ تمام پرچوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اگر میں ان میں کوئی کوتائی پائی گئی تو کمیشن اس بارے لائحہ بنائے گا۔ بھارتی میڈیا کا اس بارے میں کہنا تھا کہ 2015 میں بھی پبلک سروس کمیشن کے پرچے آؤٹ ہو گئے تھے مگر اس دفعہ تو نوے فیصد پرچے پاکستانی ویب سائٹ سے نقل کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…