جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

یروشلم اسرائیلی دارالحکومت نامنظور، تمام مسلم ممالک اکٹھے ہوگئے، اہم فیصلے کر لیے گئے

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی حکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد پوری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی نہ صرف مسلم ممالک بلکہ دیگر ممالک نے بھی امریکی صدر کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ، اسی سلسلے میں مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس استنبول میں ہو رہا ہے، اس اجلاس میں اسلامی دنیا اپنے مشترکہ موقف کا اعلان کرے گی، پاکستان کی

جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،شہبازشریف اور وزیرخارجہ خواجہ آصف ترکی پہنچے،او آئی سی کا یہ سربراہ اجلاس ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی طرف سے بلایا گیا ہے، او آئی سی کے اجلاس میں تقریباً 26 اسلامی ممالک کے سربراہان شرکت کی ہے۔سربراہ اجلاس سے قبل وزراء خارجہ کونسل کا اجلاس بھی ہو گا جس میں وزیر خارجہ محمد آصف شرکت کریں گے۔ وزیراعظم فلسطین کے عوام کے لئے پاکستان کے عوام اور حکومت کی غیرمتزلزل حمایت کے جذبات پہنچائیں گے۔پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیں گے کہ بیت المقدس کے معاملے پر مشترکہ موقف اپنایا جائے اور امریکی انتظامیہ سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا جائے گا،پاکستانی حکومت اور عوام کو القدس کے معاملے پر انتہائی تشویش ہے، اس طرح کا اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں خاص طور پر یو این ایس سی آر 478 کی خلاف ورزی ہے۔ اس اجلاس میں امریکہ کی جانب سے اپنے سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔57 رکنی تنظیم او آئی سی کی صدارت اس وقت ترکی کے پاس ہے اور ترک صدر طیب رجب اردوغان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھا چکے ہیں۔مسلم ممالک اپنا مشترکہ موقف اجلاس کے دوران پیش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…