جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیشی شہری نے نیویارک میں دھماکہ کیوں کیا،حملے سے پہلے ٹرمپ کو فیس بک پر کیا دھمکی دی تھی، سنسنی خیز انکشافات

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں حکام نے کہاہے کہ نیویارک میں بس ٹرمینل پر بم حملہ کرنے والے عقائد اللہ پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 27 برس کے بنگلہ دیشی تارکِ وطن عقائد اللہ پیر کو نیویارک کے مرکزی علاقے مین ہیٹن میں ایک بس ٹرمینل پر خودکش حملے کی کوشش میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔نیو یارک کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ٹوئٹ کے مطابق عقائد اللہ پر مجرمانہ طور پر ہتھیار رکھنے، دہشگردی کے

عمل کی حمایت اور دہشتگردی کا خطرہ پیدا کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے پیر کو حملے سے قبل فیس بک پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک تنبیہہ چھوڑی تھی۔فیس بک پوسٹ میں لکھا تھاکہ ٹرمپ تم اپنی قوم کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہو۔عقائد اللہ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ انھوں نے یہ یہ حملہ دولتِ اسلامیہ کے لیے کیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق عقائد اللہ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ یورپ میں کرسمس کے موقع پر ہونے والے حملوں سے متاثر تھا اور اس نے پورٹ اتھارٹی بس ٹرمینل پر اس تہوار کے بارے میں بہت سے پوسٹر دیکھنے کے بعد اس جگہ کو حملے کے لیے منتخب کیا۔ عقائد اللہ نے اپنے بم میں پائپنگ، کیلیں، نو والٹ کی بیٹری اور کرسمس کی لائٹوں کے تار استعمال کیے۔نیو یارک کے علاقے بروکلین میں عقائد اللہ کے گھر کی تلاشی لی گئی ہے اور پولیس کے مطابق انھوں نے تنہا ہی اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔نیو یارک پولیس کے انٹیلیجنس اور انسدادِ دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی کمشنر جان ملر نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس اور ایف بی آئی کو عقائد اللہ کے بارے میں پہلے سے معلوم نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…