جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چینی نوجوانوں نے مغربی ممالک کے بجائے عرب ممالک کا رخ کر لیا، ایسی وجہ کہ جان کر آپ کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

سنکیانگ (آئی این پی )چینی طلباء تعلیم حاصل کرنے کے لئے مغربی ممالک کے مقابلے میں عرب ملکوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شمالی چین کے صوبے شانزی سے تعلق رکھنے والے ایک بیس سالہ طالبعلم عمر نے جو عمان (اردن ) یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے

بتایا کہ عرب ممالک میں تعلیم حاصل کرنا اس کا خواب تھا کیونکہ اس نے ہائی سکول تک عربی کی تعلیم حاصل کی تھی اس لئے اس نے مزید تعلیم کیلئے اردن کا انتخاب کیا کیونکہ وہ مسلمان ملکوں میں زیادہ مستحکم ملک ہے،چھٹیوں کے دوران وہ تاریخی مقامات کی سیر سے لطف اندوز ہوتا ہے ، مختلف شہروں میں جاتا ہے ، وہ مصر کے احرام دیکھتا ہے اور لبنان میں مختلف مزارات کی زیارت بھی کرتا ہے، اس نے اردن سے واپسی پر اس سال کے اوائل میں چین واپسی پر صوفیہ سے شادی کی جس کا تعلق چین کے خود مختار ریجن سنکیانگ یغور سے ہے ، شادی کے بعد اس کی بیگم نے بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور دونوں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے کر خوش و خرم رہ رہے ہیں ۔ایک اور چینی طالبعلم عید کا تعلق گانسو صوبے سے ہے اس نے بتایا کہ مشرقی وسطیٰ کی یونیورسٹیوں میں مغرب کے مقابلے میں فیس کم ہے ا س لئے ہم ان ممالک میں داخلے کو ترجیح دیتے ہیں ، یہاں مقامی لوگوں کے ساتھ مساجد میں جا کر عبادت بھی کرسکتے ہیں تا ہم عید کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں ویزا کے بعض مسائل موجود ہیں جس سے ہمیں آنے جانے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں ، اس لئے کسٹمز حکام کو چاہئے کہ وہ چینی طلباء کیلئے سہولتیں فراہم کریں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…