پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی اشتعال انگیزی ہو گی،سعودی عرب کا انتباہ

datetime 6  دسمبر‬‮  2017 |

ریاض/واشنگٹن(آئی این پی)سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کو عالم اسلام کے لیے اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس اقدام سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق گذشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ٹیلیفون کیا

اور ان سے تازہ ترین صورت حال بالخصوص امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے ممکنہ فیصلے کے بارے میں بتایا۔رپورٹ کے مطابق دونوں رہ نماں میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین نے واضح کیا کہ امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے اعلان پرعمل درآمد سے خطے میں امن وامان کے قیام کے لیے ہونے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور پورا خطے ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت سعودی عرب کی مستقل پالیسی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔شاہ سلمان نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوں گے۔ پوری دنیا کے مسلمان بیت المقدس اور مسجد اقصی جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی القدس کے بارے میں ممکنہ امریکی اقدام پر خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے نزدیک اس اقدام کی طرف بڑھنا بین الاقوامی قراردادوں کی مخالفت ہو گا جن میں بیت المقدس پر فلسطینی قوم کے تاریخی حقوق کو باور کرایا گیا ہے

اور ان حقوق کو کسی طور نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔یہ پیش رفت امریکا کے موقف میں بنیادی تبدیلی اور بلاجواز جانب داری کی ترجمانی کرے گی وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ امن عمل کو پھر سے کامیابی کے راستے پر لانے کے لیے سب کی نظریں واشنگٹن پر جمی ہوئی ہیں۔سعودی وزارت خارجہ کے ذریعے کے مطابق اس اقدام کے انتہائی خطرناک دوررس اثرات ہوں گے اور یہ فلسطینی اسرائیلی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا کر امن عمل کو زندہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو معطل کر دے گا۔

اس کے علاوہ یہ امر دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر دے گا۔سعودی ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کو اس اقدام کے انتہائی منفی نتائج پر غور کرنا چاہیے۔ ذرائع نے باور کرایا کہ بیت المقدس کے حوالے سے سعودی عرب کا موقف اٹل ہے اور مملکت ہمیشہ کی طرح فلسطینی قوم کے ساتھ کھڑی ہے تا کہ وہ اپنے قانونی حقوق حاصل کر سکے اور اپنی فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنا سکے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…