جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

ایران ، سْنّی علاقوں میں پاسداران انقلاب کی بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ سرگرمیاں

datetime 12  ستمبر‬‮  2017 |

تہران(این این آئی)ایران میں حکومتی نظام کی جانب سے سنیوں کے خلاف معمول کا کریک ڈاؤن اور فرقہ وارانہ کارستانیاں ملک میں خانہ جنگی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہیں۔ یہ بات اصلاح پسند اپوزیشن کی ایک نئی رپورٹ میں کہی گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپوزیشن کے نزدیک شمار کی جانے والی ویب سائٹ آمد نیوز پر نشر ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنی اکثریتی علاقوں میں

پاسداران انقلاب کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک کے جنوبی علاقوں بالخصوص سیستان ، بلوچستان اور خراسان کے صوبوں میں پاسداران انقلاب کی مذہبی شخصیات اور اداروں کی سرگرمیوں میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ان سرگرمیوں میں فرقہ وارانہ چھاپ کی حامل دعوتی مجالس شامل ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال عید غدیر کا منانا ہے۔ شیعوں کی جانب سے سنیوں کے علاقوں میں عید غدیر کا منایا جانا سنیوں کی نظر میں واضح طور پر ایک اشتعال انگیز امر ہے۔غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سنیوں کی تعداد کْل آبادی کا 25% ہے جو مخلتف علاقوں بالخصوص عرب اہواز ، بلوچستان اور کردستان میں تقسیم ہیں۔اسی طرح ایرانی نظام پر سنیوں کو الگ تھلگ کرنے کے علاوہ سنی صوبوں میں ترقیاتی امور کو معطل کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…