منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

بحران کے خاتمے کے لیے قطرکو دہشت گردی کی مدد ختم کرنا ہوگی،سعودی عرب

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ قطر کے ساتھ اس وقت تک بحران ختم نہیں ہوگا جب تک دوحہ دہشت گردی کی معاونت بند نہیں کرتا۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے ان خیالات کا اظہار اپنے روسی ہم منصب سیرگی لاوروف کے دورہ ریاض کے موقع پہ ایک مشترکہ پریس

کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم قطر سے کیا چاہتے ہیں۔ دوحہ کے ساتھ جاری بحران کا ٹھوس حل کا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک قطر دہشت گردی کی حمایت اور مدد بند کرتے ہوئے اشتہاریوں کو پناہ دینے اور دوسرے ملکوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا سلسلہ نہیں روکتا۔عادل الجبیر نے کہا کہ قطر کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل معاونت اور حمایت پوری دنیا نے مسترد کردی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دوحہ ہمارے تمام مطالبات پورے کرتے ہوئے تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے۔ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک شام میں محفوظ زون کے قیام اور سیاسی عمل کے جلد از جلد شروع کیے جانے کا خواہاں ہے۔یمنی بحران سے متعلق روسی موقف کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل اور تنازعات میں ماسکو اور ریاض کے موقف میں کافی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین۔ اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے کوشش کررہے ہیں۔اس موقع پر روسی وزیرخارجہ لاوروف نے کہا کہ ہم روس اور سعودیہ کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کے لیے نئے افق تلاش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو قطر اور دوسرے عرب ملکوں

کے درمیان جاری کشیدگی دور کرنے کے لیے کویت کی ثالثی کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خلیج تعاون کونسل علاقائی تنازعات کے حل کا بہترین فورم ہے اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی حفاظت کی جانی چاہیے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ خلیجی بحران کے حل کے لیے جاری مفاہمتی کوششیں جلد ثمر آور ثابت ہوں گی۔شام کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سیرگی لاوروف نے کہا کہ شام میں محفوظ زون کا

قیام بحران کو حل کرنے کا نیا موقع فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور روس شامی اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں لاوروف نے کہا کہ روس اقوام متحدہ اور گروپ چار کے ساتھ مل کر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازع کے حل کی حمایت کرتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…