ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

شام میں روسی فضائیہ کی نقل مکانی کرنیوالے افرادکی کشتیوں پر بمباری،34 ہلاک

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

دمشق(این این آئی)شام کے شہر دیرالزور کے قریب کشتیوں کے ذریعے دریائے فرات کو عبور کرنے والے شہریوں پر روسی فضائیہ کے حملوں کے نتیجے میں 34 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی برطانوی مبصر تنظیم نے روسی فضائی کارروائی سے ابتدائی طور پر 21 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی تھی تاہم بعد میں جاں بحق

افراد کی تعداد 34 تک پہنچ گئی۔برطانوی تنظیم کا کہنا تھا کہ اکثر لاشیں دریا میں میں موجود تھیں۔تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں 9 بچے بھی شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ فضائی کارروائی میںں ’40 سے زیادہ کشتیوں’ کو نشانہ بنایا گیا جو البولیل شہر سے شہریوں کو لے کر دیرالزور کے ساحل کی طرف آرہی تھیں۔مبصر تنظیم شام میں کام کرنے والے نیٹ ورک کے ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہے اور اس بات کا تعین کرتی ہے کہ واقعات میں کس اتحاد کے جہازوں کا استعمال ہوا ہے اور اس کے علاوہ واقعے کا مقام، پرواز کے پیٹرن اور گولیاں کے استعمال کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ روس نے شامی صدر بشارالاسد کے اتحادی کی حیثیت سے ان کی حمایت کیلیے ستمبر 2015 میں شام مداخلت کی تھی۔اس تازہ کارروائی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شامی فوج نے روسی فضائیہ کی مدد سے دیرالزور میں موجود دہشت گرد گروہ دولت اسلامیہ (داعش) کے اراکین کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ کردش اور عرب جنگجو بھی دیرالزور میں داعش کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں۔خیال رہے کہ شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ انھوں نے فرات کے مشرقی علاقے کو داعش سے صاف کرنے کا آغاز کردیا ہے۔برطانی مبصر تنظیم کا کہنا تھا کہ ایس ڈی ایف کے دیرالزور ملٹری کونسل نے یک طرفہ آگے بڑھتے ہوئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور صوبائی دارالحکومت دیرالزور سے چندکلومیٹر دور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…