ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

’’پاکستان کے بغیر کیا کام نہیں ہو سکتا‘‘ ترک صدر طیب اردوان کے تاریخی الفاظ

datetime 10  ستمبر‬‮  2017 |

آستانہ(مانیٹرنگ ڈیسک)ترک صدر رجب طیب اردوگان نے صدر مملکت ممنون حسین سے ملاقات کے دوران خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی حمایت کا مکمل اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی حکومت اور عوام کی خدمات تاریخی ہیں۔رجب طیب اردوگان اور ممنون حسین کے درمیان ملاقات قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اسلامی سربراہ کانفرنس کے

دوران ہوئی جہاں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ برادرانہ تعلقات پر فخر کا اظہار کیا۔اس موقع پر ترک صدر اردگان کےساتھ ان کی کابینہ کے اہم وزرا بھی موجود تھے۔سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین اور ترکی کے صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ممنون حسین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی امن کی بحالی کے لئے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کی قدر کی جانی چاہیے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی امن وسلامتی کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوترکی کی دوستی پر فخر ہے اور یہ دوستی آزمائش کے ہر معیار پر پوری اتری ہے۔اردوگان نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی قربانیوں کی تعریف کی اور پاکستان کی حمایت کا مکمل اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی حکومت اور عوام کی خدمات تاریخی ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا بھی اظہار کیا۔ترک صدر نے اس موقع پر کہا کہ ترکی میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے جس طرح ترک بھائیوں کا ساتھ دیا اس پر ترک قوم پاکستانی قوم کی شکر گزار رہے گی۔دونوں رہنماؤں نے ہر طرح کی

دہشت گردی کے خلاف مربوط کارروائیوں کی حمایت کی اور افغانستان کے مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مضمر ہے۔برادر ملکوں کے صدور کے درمیان اس ملاقات میں روہنگیا کے مسلمانوں کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھانا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…