جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

’’پاکستان ہمارے ساتھ تعاون کرے، ورنہ۔۔‘‘ امریکہ کی پاکستان کو ایک اور سنگین دھمکی، کیا کہہ دیا؟

datetime 10  ستمبر‬‮  2017 |

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندی اور بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے امریکا پاکستان کی مدد پر انحصار کیے ہوئے ہے۔دورہ کابل کے دوران پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان مکین کا کہنا تھا، ‘ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں اور حقانی نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ہم پاکستان سے

تعاون کی امید رکھتے ہیں۔امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ ‘اگر پاکستان اپنا رویہ نہیں بدلتا تو شاید ہمیں پاکستانی قوم کی طرف اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔واضح رہے کہ امریکی سینیٹر کا یہ بیان ان کی قیادت میں امریکی سینیٹرز کے وفد کے دورہ اسلام آباد کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جہاں پاکستانی حکام نے انہیں خطے کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔امریکی سینیٹرز کا دورہ اسلام آباد اور کابل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے طالبان کا صفایا کرنے اور افغان فورسز کی حمایت کے لیے مزید فوجیوں کو بھیجے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔جان مکین نے افغانستان میں 16 سال سے جاری جنگ کے لیے فوجیوں کی تعداد سے زیادہ ‘جیت کی حکمت عملی پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دنیا کی سب سے مضبوط قوم کو اس جنگ کو جیتنا چاہیے’ جس کے لیے فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ نیٹو افواج کے نام پر اس وقت 8 ہزار 400 امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جبکہ 4000 مزید فوجیوں کو بھیجے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔امریکی سیکریٹری دفاع جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ ان کی نئی حکمت عملی، جسے رواں ماہ کے آخر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پیش کیا جائے گا، وسیع ‘علاقائی اہمیت کی حامل ہوگی۔دوسری جانب امریکی صدر نے افغانستان کے معاملے پر غیرمعمولی خاموشی اختیار کیے رکھی تھی، تاہم اس ماہ انہوں نے بالآخر جیمس میٹس کو افغانستان میں فوجیوں کی تعیناتی کا اختیار سونپ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…