منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

آسٹریلیامیں تارکین وطن کے لیے 70 ملین ڈالر زرِتلافی کی منظوری،نئی تاریخ رقم ہوگئی

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

کینبرا(این این آئی)آسٹریلیا میں عدالت نے حکومت کی جانب سے پاپوا نیو گنی میں قید کیے گئے تارکینِ وطن کو سات کروڑ آسٹریلین ڈالر (پانچ کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالر) کی رقم بطور زرِ تلافی دیے جانے کی منظوری دے دی ہے۔عر ب ٹی وی کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے یہ پیشکش رواں برس جون میں کی تھی جب پاپوا نیو گنی کے جزیرے مانوس میں زیرِ حراست 1905 پناہ گزینوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔

یہ تصفیہ آسٹریلیا کی تاریخ میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی ڈیل ہے۔ریاست وکٹوریا کی سپریم کورٹ کے جج کیمرون میکولے نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وہ تصفیے کے لیے طے شدہ رقم سے مطمئن ہیں۔آسٹریلوی حکومت کا موقف تھا کہ ان پناہ گزینوں کو قید میں رکھنے کا فیصلہ ‘احتیاطی قدم’ تھا اور وہ کسی قسم کے غلط اقدام سے انکار کرتی ہے۔آسٹریلیا ملک میں پناہ کے لیے کشتیوں پر آنے والے غیرقانونی تارکین وطن کو پاپوا نیو گنی اور ناؤرو کے جزائر پر منتقل کر دیتا ہے۔تقریباً 2000 تارکین وطن میں سے 1300 اس مقدمے کا حصہ ہیں۔مقدمے کو دائر کرنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ انھیں حراستی مراکز میں غیر انسانی اور ناموزوں حالات میں رکھا گیا تھا اور وہاں ان کے ساتھ ظلم اور تشدد کیا گیا اور طبی امداد بھی نہیں دی گئی۔جون میں حکومت نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ وہ مقدمہ عدالت میں لے جانے کے بجائے دو کروڑ آسٹریلوی ڈالر کا معاوضہ ادا کرنے پر راضی ہیں۔وزیر برائے تارکین وطن پیٹر ڈٹون نے اس فیصلہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مقدمہ عدالت جاتا تو قانونی فیس کی مد میں کروڑوں ڈالر صرف ہوتے اور یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ فیصلہ کیا آئے گا۔دوسری جانب ایک تارک وطن عامر تخنیا نے آسٹریلیوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے کا اس لیے حصہ نہیں بنے کیونکہ اس سے ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ پاپوا نیو گنی اور ناؤرو پر قید تارکین وطن کو ملک میں قیام کی اجازت نہیں دیں گے مگر اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اس پالیسی سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…