اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم تاریخ مٹانے کی مذموم بھارتی کوشش بے نقاب

datetime 6  ستمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست مہاراشٹر میں سکول کی کتابوں سے بھارت کے بڑے حصے پر تین صدیوں تک راج کرنے والے مغل سلطنت کا ذکر مٹایا جا رہا ہے۔مغل سلطنت کی تاریخ کو نصاب سے ہٹانے کا مقصد ایک ہندو حکمران کی طرف سے قائم سلطنت پر توجہ مبذول کرنا ہے اور وہ ہندو حکمران چھترپتی شیواجی ہیں،مگر کتابوں میں کی جانے والی ان تبدیلیوں پر بحث چھڑ گئی ہے۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق انڈیا کی زیادہ تر یادگاریں مغل دورِ حکومت میں بنائی گئی تھیں۔ تقریباً 300 سالوں تک راج کرنے والے مغل انڈیا کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ مگر مہاراشٹر کے کئی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے ان کا کوئی اہمیت نہیں۔مہاراشٹر کے کئی سکولوں میں مغلوں کی تاریخ کو نصاب سے مکمل طور ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی بجائے نصاب مکمل طور پر چھترپتی شیواجی پر مرکوز کر دیا گیا ہے۔17 ویں صدی میں شیواجی نے مغلوں کو شکست دے کر مراٹھا سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے مہاراشٹر سمیت انڈیا کے کئی حصوں پر حکومت کی تھی۔یہ قدم اٹھانے والی ہسٹری ٹیکسٹ بک کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مذہبی یا سیاسی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔کمیٹی کے چیئرمین سدانند مورے نے کہاکہ ہمارے بچے مہاراشٹر کے ہیں۔ لہٰذا مراٹھا تاریخ سے ان کا تعلق پہلے بنتا ہے۔ عملی مسئلہ یہ ہے کہ کتاب میں صفحات کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ لہٰذا مغل تاریخ کا احاطہ کرنے کے لیے ہم کتابوں سے مراٹھا تاریخ کو نہیں ہٹا سکتے۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی سیاسی پارٹیاں مغلوں کو ‘مسلم حملہ آور’ قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مغلوں نے ہندوؤں پر ظلم ڈھائے تھے۔جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے، یہ آواز اور تیز ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ جہاں کچھ مغل حکمرانوں نے اسلام کو پھیلانے کی کوشش کی، وہیں کئی حکمرانوں نے زیادہ تر ہندو ریاستوںپر پر امن طریقے سے حکومت کی۔ان کا کہنا تھا کہ مغل حکمرانوں کی حکمرانی کا تجزیہ ان کی حکومتی صلاحیت کی بنیاد پر کرنا چاہیے، نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…