ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بڑا بریک تھرو،طالبان ایسے کام پر رضامندہوگئے جس کا اس سے قبل تصور ہی نہیں کیاجاسکتاتھا

datetime 30  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل (این این آئی)افغان انٹیلی جنس چیف روزانہ ہی ملک کی صورت حال اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے طالبان سے فون پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام نے بتایا کہ افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر بھی ہر ماہ قطر میں موجود طالبان کی قیادت سے بات چیت کرتے ہیں۔افغان حکام کے پاکستان اور قطر میں موجود طالبان قیادت کے ساتھ مبینہ مذاکرات ہوئے تاہم افغان حکام کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فریق عوامی طور پر امن مذاکرات کیلئے تیار نہیں،

مذکورہ دستاویزات میں مذاکرات میں شامل نکات کے حوالے سے انکشاف بھی کیا گیا جس کے مطابق طالبان کی جانب سے افغانستان کا آئین اور مستقبل میں ممکنہ الیکشن کو منظور کرنے میں بظاہر دلچسپی ظاہر کی گئی۔افغان سیکیورٹی افسر نے نام شائع نہ کرنے کی درخواست پر دعویٰ کیا کہ طالبان نے افغانستان کے آئین میں متعدد ترامیم کا مطالبہ کیا ہے تاہم اس کیلئے انہیں جلدی نہیں۔طالبان کی جانب سے مطالبات میں کہاگیا کہ طالبان نے ہر سطح کی تعلیم لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے یکساں منظور کرلی ہے تاہم ان کا ماننا ہے کہ یہ تعلیم مخلوط نہیں دی جانی چاہیے۔مطالبات میں کہاگیا کہ خواتین دفاع اور عدالتی نظام سمیت تمام شعبوں میں ملازمت اختیار کرسکتی ہیں ٗوہ سپریم کورٹ کے سوا تمام سطح پر ججز کی حیثیت میں کام کرسکتی ہیں۔مطالبات میں کہاگیاکہ طالبان آئینی ضمانت چاہتے ہیں کہ ملک میں خاتون کو صدر منتخب نہیں کیا جائیگا۔ طالبان نے اپنے دور سے قبل امیروں اور طاقتور افراد کی جانب سے زمینوں پر غیر قانونی قبضوں سے متعلق ہزاروں کیسز کے ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام پر بھی رضامندی کا اظہار کیاادھر افغان انٹیلی جنس ایجنسی نے طالبان کے ساتھ رابطوں کی رپورٹس پر رد عمل نہیں دیا۔مذاکرات سے منسلک حکام کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس چیف معصوم استانزئی تقریبا روزانہ کی بنیاد پر ٹیلی فون کے ذریعے طالبان کے رہنما عباس استانزئی سے بات چیت کرتے ہیں جو ان کے عزیز نہیں ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمار نے قطر میں موجود طالبان کی قیادت سے رابطے کے حوالے سے کسی بھی قسم کا رد عمل نہیں دیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…