ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ریاض میں درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ تک جاپہنچا

datetime 4  اگست‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں درجہ حرارت 50ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،شہریوں نے شدید گرمی میں مشقت والے کاموں والے مقامات میں ڈیوٹی کے اوقات دن کے بجائے رات یا شام میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاض کا دارالحکومت 50 درجے سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے تاہم سرکاری اندازے کے مطابق درجہ حرارت 49 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس کے

حل اور اوقات کار میں تبدیلی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں مشقت والے کاموں والے مقامات میں ڈیوٹی کے اوقات دن کے بجائے رات یا شام میں تبدیل کیے جائیں یا صبح اور شام کے اوقات میں کام اور دن کے وقت شدید گرمی سے بچنے کے لیے شہریوں کوکام سے رخصت دی جائے۔سعودی ماہر موسمیات عبدالعزیز المقطیب نے بتایا کہ محکمہ موسمیات سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت اور تبدیل ہوتے موسم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماہرین موسمیات درجہ حرارت میں اضافے کے معاملے سے عالمی اور سائنسی انداز میں نمٹ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت کو دو طریقوں سے ماپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طریقہ مرکری [پارہ سیماب] سے ماپنے کا ہے جب کہ دوسرا طریقہ ہوا میں نمی کے تناسب کو جانچنے کا ہے۔درایں اثنا سعودی وزارت ماحولیات کے ڈائریکٹر جنرل انجینیر علی الغامدی کا کہنا ہے کہ وزارت ماحولیات اور وزارت لیبر مل کر موسمی تبدیلی کے معاملے سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فی الحال اوقاف کارمیں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم وزارت لیبر کے سابقہ فیصلے میں مقامی وقت کے مطابق دن 12 سے سہ پہر تین بجے تک سخت گرمی میں دھوپ میں کام کرنے والے افراد کو کام سے منع کیا گیا ہے۔ یہ شیڈول گرمیوں کے تین ماہ جون، جولائی اور اگست میں نافذ العمل رہے گا، ستمبر میں دوسرا فیصلہ لاگو ہوگا جس میں شدید گردو غبار اور سیلاب کے پیش نظر اوقات کار میں تبدیلی کی تجویز دی جائے گی۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…