بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

برمودا ٹرائینگل کا معمہ حل، آسٹریلوی سائنسدانوں نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 1  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برمودا ٹرائینگل کا معمہ حل، آسٹریلوی سائنسدانوں نے بڑا اعلان کر دیا، تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے برمودا ٹرائی اینگل جو دنیا کا پراسرار ترین خطہ تصور کیا جاتا ہے کا راز دریافت کرنے کا دعویٰ کردیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق پیورٹو ریکو، فلوریڈا اور برمودا کے درمیان واقع اس سمندری تکون کی پراسراریت یہ ہے کہ وہاں کوئی اسرار ہے ہی نہیں۔ سائنسدان کارل کروزن لینسکی جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے،

نے کہا ہے کہ اس سمندری خطے میں متعدد بحری جہازوں اور طیاروں کے غائب ہونے کے پیچھے خلائی مخلوق یا اٹلانٹس کے گمشدہ شہر کے فائر کرسٹلز کا ہاتھ بالکل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں جہازوں کی گمشدگیاں ماورائی نہیں بلکہ اس کی وجہ خراب موسم ہو سکتا ہے اور اگر جہاز غائب ہونے کی اوسط دیکھی جائے تو پوری دنیا میں تقریباً اوسط اتنی ہی ہے۔ مزید کہا کہ اس سمندری تکون کا رقبہ سات لاکھ اسکوائر کلومیٹر پر محیط ہے اور یہاں بہت زیادہ سمندری ٹریفک ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم وہاں غائب ہونے والے جہازوں کی تعداد دیکھیں اور دیگر سمندری خطوں میں یہ تعداد دیکھیں تو اس میں بہت معمولی فرق ہے۔ سائنسدان کارل کروزن لینسکی کا تعلق سڈنی یونیورسٹی سے ہے انہوں نے کہا کہ فلائٹ 19 کی گمشدگی کے بعد برمودا ٹرائی اینگل کو پراسرار خطہ بنانے کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 دسمبر 1945ء کو پانچ یو ایس نیوی ٹی بی ایم ایوینجر تارپیڈو بمبارز جو کہ اٹلانٹک میں معمول کے مشن پر نکلے تھے، غائب ہوگئے، جن کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا، انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ خراب موسم اور انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا تھا اس کا عملہ بھی نشے میں تھا۔ اس کے علاوہ ایک تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اس خطے کے اوپر شش پہلو بادل ممکنہ طور پر بحری جہاز اور طیاروں کی گمشدگی کا باعث بنتے ہیں، کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ان بادلوں کی وجہ سے 65 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں پیدا ہوتی ہیں جو ہوائی بم کی طرح کام کرتی ہیں، اس سے بحری جہاز غرق اور طیارے تباہ ہو جاتے ہیں، مگر کسی بھی تحقیق میں یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اگر یہ بادل اور خراب موسم جہازوں کی تباہی کا باعث ہے تو ان بحری جہازوں اور طیاروں کا ملبہ کدھر جاتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…