ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’برطانیہ میں مسلم خواتین کیلئے حلال۔۔۔۔گائیڈ نامی کتاب فروخت کیلئے پیش کر دی گئی ‘‘

datetime 22  جولائی  2017 |

لندن (این این آئی)مسلمان خواتین اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کس طرح اپنی جنسی زندگی گزارتی ہیں؟اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ای کامرس ویب سائٹ ایمیزون پر فروخت ہو رہی ہے اور اس کی اشاعت پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دی مسلمہ سیکس مینیوئل،

اے حلال گائیڈ ٹو مائنڈ بلوئنگ سیکس کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کی مصنفہ نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے اور موضوع کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تخلص کا استعمال کیا ہے۔لیکن برطانوی اخباروں میں مصنفہ کے انٹرویو چھپے ہیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق اس کی مصنفہ مسلمان ہیں۔اخبار میں ان کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات نہیں دی گئیں اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مصنفہ نے خود یہ گزارش کی ہے۔مصنفہ نے انٹرویو میں کتاب لکھنے کی وجہ بھی بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت ساری مسلمان خواتین، خاص طور پر روایتی خواتین سیکس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں۔مصنفہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کتاب اس لیے لکھ رہی ہیں کیونکہ وہ مسلمان خواتین کی زندگی میں خوشی لانا چاہتی ہیں۔برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک مسلمان مصنفہ شیلینا جان محمد نے کہا کہ اگر یہ کتاب مسلمان خواتین سے منسلک فرضی خیالات تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔اگرچہ کتاب پر تنقید بھی ہو رہی ہے مگر کچھ حلقوں میں اس پر عورتوں کے بارے میں روایتی سوچ کو تبدیل کرنے اور ان کے جسم سے منافع حاصل کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

کتاب کی مصنفہ ان الزامات سے متفق نہیں۔ برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کتاب کے بارے میں مجھے بہت لوگوں نے ای میل کر کے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسجد کے امام نے لکھا کہ اْن کا ارادہ ہے کہ وہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو اس کی ایک کاپی دیں گے۔مصنفہ کے مطابق اس کتاب پر ایک ہی اعتراض ان کے سامنے آیا ہے وہ یہ کہ اس میں مردوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور تمام تر توجہ خواتین پر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…