ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھا رت اور چین کے درمیان سر حدی کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی

datetime 13  جولائی  2017 |

بیجنگ(آن لائن)بھا رت اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعے سے کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ۔ چین کی حکومت اور ذرائع ابلاغ دونوں ہی سخت اور جارحانہ لب و لہجے میں بات کر رہے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں انڈیا اور چین کی سرحد پر اس طرح کی کشیدگی نہیں پیدا ہوئی۔

یہ تنازع گذشتہ ماہ سکّم کی سرحد کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلالم خطے سے شروع ہوا۔ چینی فوجی یہاں سڑک تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ انڈین فوجیوں نے بھوٹان کی درخواست پر چینی فوجیوں کو وہاں کام کرنے سے روک دیا ہے۔ چین نے انتہائی سخت لہجے میں انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی بقول اس کے چین کے خطے سے واپس بلائے۔صورتحال کافی گمبھیر ہے۔ وویکا نند فاؤنڈیشن کے تجزیہ کار سوشانت سرین کہتے ہیں کہ بھارت کے پاس اس معاملے میں دخل دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر گذشتہ 50 برس میں کبھی کوئی بڑا ٹکراؤ نہیں ہوا لیکن اب یہ صورت حال بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہی جبکہ چین کی جانب سے جو جارحانہ لب و لہجہ ہے اختیار کیا گیا ہے وہ کئی عشروں میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ سوشانت سرین کا خیال ہے کہ اس بار صورتحال کافی سنگین اور کشیدہ ہے۔ان کا کہنا ہے: ‘چین کی جانب سے جس طرح کے پیغامات اور بیانات آرہے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صورت حال کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ حالات یونہی بگڑتے رہے تو یہ تصادم میں بدل سکتا ہے اور سرحد پر ٹکراؤ بھی ہو سکتا ہے۔’انڈیا اور چین کے درمیان تقریباً چار ہزار کلو میٹر لمبی سرحد پر تنازع پرانا ہے اور 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے۔

گذشتہ پانچ دہائیوں میں ایک دو واقعات چھوڑ کر سرحد پر صورت حال پر امن رہی ہے۔ لیکن ڈوکلام کے واقعے کے بعد چین کا رد عمل بہت جارحانہ رہا ہے۔دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ یہ تلخی اچانک نہیں پیدا ہوئی ہے۔ ‘پچھلے کچھ عرصے سے نیوکلیئر سپلائیر گروپ میں بھارت کی شمولیت کی مخالفت، مسعود اظہر کو بین القوامی دہشت گرد قرار دینے اور چین کے اقتصادی منصوبے جیسے سوالات پر اختلافات بڑھتے گئے ہیں۔ ڈوکلام نے براہ راست ٹکراؤ کا ماحول بنا دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…