جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ اور روس شا م کے مسئلے پر متفق،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 8  جولائی  2017 |

ہیمبرگ/واشنگٹن (آئی این پی)امریکا اور روس نے شام میں (آج ) اتوار سے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا، روسی وزیرخارجہ سیرگی لاروف کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے موقع پر شام میں جنگ بندی کا اعلان صدر ولادی میر پوتن اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی ملاقات میں کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 سربراہ اجلاس کے حاشیے پر پہلی ملاقات ہوئی ہے۔ٹرمپ نے پوتن سے کہا کہ ‘آپ سے ملنا اعزاز کی بات ہے،’ جس کے جواب میں پوتن نے کہا کہ ‘مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی ہے۔’سوا دو گھنٹے پر محیط ملاقات کے بعد فریقین نے ان موضوعات کی فہرست دی جن پر بات ہوئی۔ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت بھی شامل ہے۔ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے مطابق دونوں رہنماں کے درمیان شام میں جنگ بندی کے معاملے پر ‘ٹھوس’ بات ہوئی، اور صدر ٹرمپ نے صدر پوتن پر کئی مواقع پر دبا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں محفوذ زون کے قیام کے لیے اردن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت بشار الاسد کے سیاسی مستقبل پر بات کرنے کا نہیں۔ آئندہ مرحلے میں بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ بھی کرلیا جائے گا۔البتہ انھوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں ملک اس بات پر کبھی اتفاقِ رائے حاصل کر سکیں گے۔ ‘میرا خیال ہے کہ صدر کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ہم فی الوقت اس اختلافِ رائے سے کیسے آگے بڑھیں۔ادھر اردنی وزیر مملکت برائے اطلاعات محمد المومنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا روس اور اردن مل کر شام میں جنگ بندی کو عملی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل اتوارسے جنوب مغربی شام میں جاری لڑائی ختم کردی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جنوب مغربی شامل میں شامی اپوزیشن اور بشار الاسد کے درمیان تصادم کے مقامات پر فائربندی کی جائے گی اور فریقین کو ایک دوسرے پر حملوں سے روکنے پر دبا ڈالا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…