جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حسینہ واجد نے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے،بنگلہ دیش میں سینکڑوں خفیہ جیلوں میں کیا ہورہاہے؟لرزہ خیزانکشافات

datetime 7  جولائی  2017 |

ڈھاکہ (آئی این پی )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے سیکڑوں افراد بشمول حزب کے لوگوں کو گرفتار کرکے خفیہ جیلوں میں قید کیا، جہاں بعد ازاں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کے ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ ڈبلیو آر) کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب ایک روز قبل ہی گورنمنٹ پر ایک حکومت مخالف کو اغوا کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ایچ ڈبلیو آرایشیا کے ڈائریکٹر براڈ ایڈمز کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں 2013 سے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، صرف گزشتہ برس میں ہی 90 افراد کو اٹھاکر خفیہ جیلوں میں رکھا گیا۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی سیکیورٹی فورسز کو لوگوں کو اٹھانے، قید کرنے، بے گناہ یا قصور وار قرار دینے اور انہیں سزا سنائے جانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حتی کہ لاپتہ یا اٹھائے جانے والے افراد کے حوالے سے حکومت کو دستاویزات اور معلومات فراہم کی گئیں، تاہم اب تک حکومت نے س پر عمل نہیں کیا۔ انسانی حقوق کے اداری کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ 2016 میں ایسے ہی کیسز میں 21 افراد کو قتل کیا گیا، جب کہ 9 افراد تاحال نامعلوم مقامات پر قید ہیں۔ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ کہتی ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں حزب اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ 37 سالہ سجیدالاسلام سمن بھی ہیں۔رپورٹ میں سجیدالاسلام کی بہن سنجیدا اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے بھائی اور بی این پی کے 5 کارکنوں کو ایلیٹ فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) کے اہلکاروں نے 4 دسمبر 2013 کو اٹھایا۔سنجیدا اسلام نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 3 سال 8 ماہ سے ملک کی تمام خفیہ اور سیکیورٹی ایجنسیز کے دروازے کھٹکائے مگر تاحال انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ برس عام انتخابات کے دوران سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے بعد سیاسی مخالفین کو نشانہ بنائے جانے کی شکایت بھی سامنے آنے لگیں۔حالیہ برسوں میں بی این پی اوراس کی اتحادی پارٹی جماعت اسلامی(جے آئی) کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسدالزمان خان نے ایچ آر ڈبلیو کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق تنظیم حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسی تنظیمیں آغاز سے ہی ان کے ملک کے خلاف ہیں، اسی لیے وہ منفی پروپیگنڈا پر کام کر رہی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

علاوہ ازیں پولیس نے کچھ دن قبل اغوا کیے جانے والے حکومت مخالف فرہاد مظہر کی گمشدگی سے متعلق ان کی اہلیہ کی فریاد پر مقدمہ درج کرکے انہیں گزشتہ ہفتے بازیاب بھی کرایا۔پولیس کے مطابق فرہاد مظہر نے بتایا کہ ان کی آنکھیں بند کرکے انہیں راستے سے اٹھایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…