جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا اہم ترین دریا خشک کرنے کا مکروہ منصوبہ،بھارت نے تیاریاں مکمل کرلیں،افسوسناک انکشافات

datetime 7  جولائی  2017 |

نئی دہلی/لاہور (آئی این پی)بھارت نے دریائے جہلم کا پانی روک کر کشن گنگا بجلی گھر کی جھیل کو زیادہ سے زیادہ گنجائش تک بھرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی ۔جمعہ کو ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عالمی بینک میں متنازع کشن گنگا بجلی گھر کے قابل اعتراض ڈیزائن کے خلاف مقدمہ شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہے

جبکہ دوسری طرف بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی ملکیت دریائے جہلم پر 330 میگاواٹ کے کشن گنگا بجلی گھر سے 110 میگاواٹ کی پیداوار جاری کر رکھی ہے اور اگلے چند ہفتوں میں متوقع سیلاب کے دوران پاکستان کا پانی روک کر کشن گنگا جھیل کو زیادہ سے زیادہ گنجائش تک بھرنے کی منصوبہ بندی بھی کر لی ہے جس کے بعد بجلی گھر سے مکمل پیداواری صلاحیت 330 میگاواٹ بجلی بھارت کے نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق کشن گنگا بجلی گھر کی جھیل گزشتہ برس نومبر میں ڈیڈ سٹوریج سطح تک بھر لی گئی تھی جس کے بعد 110 میگاواٹ کی تین میں سے ایک ٹربائن چلا کر بجلی کی پیداوار شروع کر دی گئی جو اب بھی جاری ہے۔ وزارت پانی وبجلی کے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کشن گنگا بجلی گھر کا باقاعدہ افتتاح بھی اسی سال کر سکتے ہیں کیونکہ بھارتی وزارت آبی وسائل کی اس سلسلے میں تیاری کرنے کی میڈیا میں بھی اطلاعات ہیں۔ عالمی بینک کی ثالثی عدالت 2013 میں جزوی طور پر کشن گنگا بجلی گھر کی تعمیر پر بھارت کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے جس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کی نئی حکومت کی جانب سے فیصلے کی وضاحت مانگنے کے لئے ثالثی عدالت میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ بھارت کے خلاف بجلی گھر کی تعمیر روکنے کا حکم امتناعی مل سکے لیکن بعد میں اچانک یہ ارادہ بھی ملتوی کر دیا گیا اور کیس کی وضاحت مانگنے کی مقررہ مدت گزر گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…