جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے

datetime 3  جولائی  2017 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)حجراسود کو بیت اللہ کا اہم ترین حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ حجر اسود کی تاریخ کے بارے میں کئی آراء پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت حجر اسود کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن حفاظتی انتظامات کرتی ہے تاکہ زائرین کی جانب سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچ پائے۔عرب ٹی وی کی جانب سے حجر اسود کی حفاظت کے حوالے سے ایک فوٹیج جاری کی گئی۔ اس فوٹج کے ساتھ ساتھ حجر اسود کے بارے

میں دقیق تفاصیل بھی بیان کی گئی ہیں،حجر اسود کو دراصل آٹھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا مجموعہ ہے جن میں بڑا ٹکڑا 2 اور چھوٹا ٹکڑا ایک سینٹی میٹر ہے۔ ان تمام ٹکڑوں کو درختوں سے حاصل ہونے والے للبان العربی الشحری یا الحوجری بروزہ مادے جسے خوشبو داری دھونی کے سے جوڑا گیا ہے۔باب کعبہ کے مستری کے پوتے فیصل بن محمد بن محمود بدر کو حجر اسود کی صفائی اور اس کے حفاظتی انتظامات کرتے دیکھا گیا۔ فیصل نے یہ کام اپنے آباؤ اجداد سے سیکھا ہے جو نسل درنسل ان تک منتقل ہوا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد خانہ کعبہ کی مرمت کی مسلسل سعادت حاصل کرنے والے خاندانوں میں شامل ہیں۔حجراسود کی حفاظت کے لیے اس کی مسلسل دیکھ بحال کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل چھونے، گرمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے حجر اسود متاثر ہوتا ہے۔ سعودی حکام ایک جانب تو حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہے ہیں دوسری طرف حجاج و معتمرین کو اس کی حفاظت کے لیے آگاہ بھی کیا جاتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حجر اسود کا کوئی ٹکڑا توڑنے سے گریز کیا جائے۔ ماضی میں غلاف کعبہ کی طرح حجر اسود کے ٹکڑے بھی توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ۔فیصل البدر کا کہنا تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق حجر اسود یاقوت کا وہ پتھر ہے جسے جنت سے اتارا گیا اور اسے جبل ابو قبیس میں رکھا گیا۔ اس پتھر کو حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے کعبے کی بنیادیں اٹھاتے وقت خانہ کعبہ کی زینت بنایا اور اس کے بعد یہ کعبے کا ایک جزو قرار پایا۔حجر اسود کے چھوٹے چھوٹے سات ٹکڑے ہیں۔ شاید مرور زمانہ کے ساتھ یہ ایک پتھر نہیں رہا بلکہ ٹوٹ چکا ہے۔ اس کے سب سے چھوٹے ٹکڑے کا سائز ایک جب کہ بڑے ٹکڑوں کا سائز دوسینٹی میٹر ہے۔ حجر اسود کو بچانے کے لیے اس پر سونے اور چاندی کی قلعی بھی کی جاتی ہے۔فیصل البدر کا کہنا تھا کہ حجر اسود کو خانہ کعبہ کے اندر سے نہیں دکھایا جاتا بلکہ خانہ کعبہ کا ایک رکن ہوتا ہے۔حجر اسود کو محفوظ بنانے کے لیے دو سال میں ایک بار ایک یا دو گھنٹے کے لیے حفاظتی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ جہاں کہیں اس کے اندر کسی جگہ کی مرمت کی ضرور ہوتی ہے سے مرمت کی اجاتا ہے۔ تاہم اس کی دیکھ بحال معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…