جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چین کے ساتھ تصادم بھارت کو کافی مہنگاپڑیگا، بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے ہوش اُڑ گئے،مودی حکومت کو انتباہ کردیا

datetime 1  جولائی  2017 |

لندن /نئی دہلی (آئی این پی) بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کارر اہول بیدی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی کا بیان جارحانہ نوعیت کا ہے جو حقیقت سے ہٹ کر ہے، چین کے ساتھ تصادم مول لینا انڈیا کے لیے کافی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے ،یہ سچ ہے کہ 1962کے بعد بھارت نے بہت ترقی کی ہے ، فوجی طاقت کے معاملے میں بھی بھارت کافی مضبوط ہوا ہے لیکن چین کے مقابلے میں تو بھارت کچھ بھی نہیں ہے،

چین کو دھمکی دینے کے لیے انڈیا کے پاس کوئی معتبر وجہ نہیں ہے،ہماری صلاحیت معمولی ہے، بیدی نے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو بھی فوجی سربراہ کا سیاسی بیان قرار دیاہے جس میں بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت ڈھائی فرنٹ پر لڑ سکتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ انڈیا چین، پاکستان اور مقامی باغیوں کے ساتھ لڑ سکتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار اہول بیدی نے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی کے اس بیان کو کہ چین بھارت کو 1962کا بھارت سمجھنے کی غلطی نہ کرے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ نوعیت کا قرار دیا ہے جو حقیقت سے ہٹ کر ہے،۔یہ سچ ہے کہ 1962کے بعد بھارت نے بہت ترقی کی ہے ۔ فوجی طاقت کے معاملے میں بھی بھارت کافی مضبوط ہوا ہے لیکن چین کے مقابلے میں تو بھارت کچھ بھی نہیں ہے۔چین کو دھمکی دینے کے لیے انڈیا کے پاس کوئی معتبر وجہ نہیں ہے، ہماری صلاحیت معمولی ہے،۔بیدی نے بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو بھی فوجی سربراہ کا سیاسی بیان قرار دیاہے جس میں بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت ڈھائی فرنٹ پر لڑ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انڈیا چین، پاکستان اور مقامی باغیوں کے ساتھ لڑ سکتا ہے۔فوج تو کہتی ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اسی سے لڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ چین اپنے ٹھکانوں تک ریلوے، ہیلی پیڈ، ایئرفیلڈ کے ذریعے آسانی سے پہنچ سکتا ہے جبکہ بھارٹ کے پاس ذرائع آمدورفت کی بہ نسبت چین کے 100فیصد کمی ہے۔چین کے ساتھ تصادم مول لینا انڈیا کے لیے کافی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ کشیدگی کے حوالے سے شاید پردے کے پیچھے اس موضوع پر بات ہو رہی ہو گی کہ اسے ختم کیا جائے کیونکہ یہی بھارت کے مفاد میں ہے۔بھارت کی جو فوجی صلاحیت ہے اس حساب سے وہ چین کے سامنے کہیں نہیں ٹھہر سکتا۔

حال ہی میں انڈین فضائیہ کے چیف دھنووا نے جو انٹرویو دیا تھا اس میں انھوں نے کہا ہے کہ انڈیا کے پاس ‘ٹو فرنٹ وار’ یعنی دو محاذوں پر جنگ کے لیے ہوائی جہازوں کی تعداد کافی نہیں ہے۔ کشیدگی والے علاقے میں بھارت کے پاس نہ تو کوئی میزائل رجمنٹ ہے اور نہ ہی کوئی ٹینک ہے۔ جبکہ چین 38ٹن کے ٹینک کا تجربہ اس علاقے میں کرنے والا ہے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلاف ہے۔ چین جو ہائی وے بنا رہا ہے اس ہائی وے کو ۔40 کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اس پر 40 ٹن کا ٹینک چلا سکتا ہے۔

اس علاقے میں انڈیا کا تو نام و نشان ہی نہیں ہے۔ یہاں سڑکیں بھی نہیں ہیں۔ انڈین آرمی کے لیے آج بھی وہاں اشیا کی فراہمی خچّر کے ذریعے ہوتی ہیں یا پھر ایئر ڈراپ ہوتا ہے۔ تو جیٹلی کس طرح کہہ رہے ہیں کہ وہ چین کا مقابلہ کر لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…