جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امیرقطرکاقوم سے خطاب کس نے رکوایا؟گزشتہ ہفتے ایسا کیا ہواتھا کہ تنازعے کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی؟قطری وزیرخارجہ کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  جون‬‮  2017 |

دوحہ(مانیٹرنگ ڈیسک) قطر نے سعودی عرب اور مصر سمیت 6 عرب ممالک کی جانب سے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کے بعد سفارتی تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ تمام ممالک کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کو دور کرنے چاہئیں۔

الجزیرہ ٹی وی نے قطری وزیرِ خارجہ سے اس بحران کی وجوہات کے بارے میں سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا ‘ہم قطر کے خلاف پیدا ہونے والے حیران کن تنازعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے۔محمد بن عبدالرحمان الثانی کے مطابق اگر اس بحران کے پیچھے اصل وجوہات تھیں تو ان پر گذشتہ ہفتے جی سی سی کے ہونے والے اجلاس میں بات چیت یا بحث کی جا سکتی تھی تاہم اس اجلاس میں اس بارے میں کوئی بات چیت یا بحث نہیں کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاض میں ہونے والے امریکی اسلامی عرب کانفرنس میں بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ ان اجلاسوں میں ایسا کچھ بھی تھا تو ہمارے پاس اس بحران کے پیدا ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔الجزیرہ کے اس سوال پر کہ اس بحران کے بعد قطر کے امیر شیخ تمیم آج رات خطاب کرنے والے تھے تاہم ان کا خطاب ملتوی کیوں کر دیا گیا کے جواب میں شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر قطر کے لوگوں سے خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں کویت کے امیر نے فون کر کے اس بحران کو ختم کو حل کرنے کے لیے اس خطاب کو ملتوی کرنے کا کہا۔شیخ محمد نے کہا کہ قطر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات غیر معمولی اور یکطرفہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قطر میں ایسی نوعیت کا کوئی قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…