جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

130اماموں کا لندن حملہ آوروں کی نماز جنازہ پڑھانے سے صاف انکار

datetime 6  جون‬‮  2017 |

لندن(آن لائن)برطانیہ میں 130اماموں نے لندن میں تین روز قبل 7معصوم شہریوں کا قتل کرنے والے حملہ آوروں خرم شہزاد بٹ اور راشد ردوان کا نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا جبکہ علماء کرام کا کہنا ہے کہ بے گناہوں کو مارنا اسلام اور پیغمبرمحمدؐ کی تعلیمات کیخلاف ہے،شدت پسندی کے خلاف لڑیں اور اسلام سے متعلق گمراہ کن بیانیے کو ختم کرینگے ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 130اماموں اورمذہبی رہنماؤں کے گروہ نے لندن حملہ آوروں کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ہر قسم کے مسلمان کے لیے نماز جنازہ کرائی جاتی ہے لیکن وہ حملہ آوروں کی آخری رسومات میں حصہ نہیں لیں گے ۔سوشل میڈ یا پر سامنے آنے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے اخلاقی اصولوں کو اعلی درجے پر رکھا ہے اور ان اصولوں کے مطابق ہم غدار حملہ آوروں کی آخری رسومات ادا نہیں کر سکتے ۔انہوں نے دیگر اماموں اور مذہبی رہنماں سے بھی درخواست کی کہ ان حملہ آوروں کی نماز جنازہ ادا نہ کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے اقدام کا دفاع نہیں کیا جا سکتا کیو نکہ یہ اسلام کی اعلی تعلیم کے خلاف ہے ۔ایسٹ لندن مسجد کے چیئر مین محمد حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف لڑیں گے اور اسلام سے متعلق گمراہ کن بیانیے کو ختم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ پھر مل کر ان کا سامنا کریں گے جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ لندن میں معصوم لوگوں کی جان لینے والے ہمیں دو حصوں میں تقسیم نہیں کرسکتے ۔حبیب الرحمان نے دہشت گردی میں ملوث افراد کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسلام اور آخر ی پیغمبر محمد ﷺکی تعلیمات کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی گمراہی انہیں تباہی کی طرف لے جائے گی ،اللہ ان کے برے مقاصد میں انہیں ناکام بنائے گا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم شدت پسندوں کے ساتھ کبھی کھڑے نہیں ہونگے ،دہشت گرد وں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…