جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مدر آف آل بمبز کے بعد 200 ہاتھیوں کے وزن جتنا راکٹ تیار کر لیا گیا، کیا ہونے جا رہا ہے؟

datetime 6  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈیا کے خلائی ادارے اسرو کے مطابق پیر کو مقامی طور پر تیار کردہ سب سے طاقتور راکٹ کی مدد سے بھارت کا سب سے بھاری مواصلاتی مصنوعی سیارہ خلا میں بھیج دیا گیا ہے۔ اسرو کی جانب سے یہ بات ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہی گئی ہے۔ بھارت کا خلائی مشن میں نیا ریکارڈ جی ایس ایل وی (جیوسنکرونس سیٹیلائٹ لانچ وہیکل) مارک تھری راکٹ کی کامیابی پر ہی منحصر ہے۔

بھارت مستقبل قریب میں خلا میں انسان بھیج سکے گا یا نہیں کیونکہ اس مقصد کے لیے بھی یہی راکٹ استعمال کیا جانا ہے۔بھارت آئندہ سات برس میں اپنے طور پر خلانورد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس پروگرام کے لیے ’اسرو‘ نے بھارتی حکومت سے 15 ہزار کروڑ روپے کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس راکٹ کی لمبائی 140 فٹ ہے اور وزن تقریباً 200 ہاتھیوں جتنا یعنی 640 میٹرک ٹن ہے۔ اسے مقامی طور پر ہی تیار کیا گیا انجن لگایا گیا جس میں مائع آکسیجن اور ہائیڈروجن کو بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ راکٹ ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مواصلاتی مصنوعی سیارے جی سیٹ 19 کو خلا میں لے کر گیا ہے۔اس مواصلاتی مصنوعی سیارے کا وزن بھی 3136 کلو گرام ہے۔ بھارت کو اس سے پہلے 2300 کلوگرام سے زیادہ کے وزن والے مواصلاتی مصنوعی سیارے لانچ کرنے کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ اس سیٹلائٹ کو احمد آباد میں واقع خلائی ایپلیکیشنز سینٹر میں تیار کیا گیا اور اس کی تیاری میں بھارتی سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے خلائی سائنسدانوں کو 15 برس لگے۔خلائی سینٹر کے ڈائریکٹر تپن مشرا کا کہنا ہے کہ صحیح معنوں میں یہ میڈ ان انڈیا سیٹلائٹ ڈیجیٹل انڈیا کو بااختیار کرے گا۔ اس راکٹ کی تیاری بھی بیرون ملک کے مقابلے میں کافی سستی رہی ہے اسی لیے پوری دنیا کی نگاہیں اس کے لانچ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ جی ایس ایل وی مارک تھری راکٹ چار ہزار کلوگرام تک کے وزن کو جوسرونس ٹرانسفر مدار تک لے جانے اور 10 ہزار کلو تک کے وزن کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…