جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام مخالف بیانات کے خلاف احتجاج ،ٹرمپ ٹاور کے قریب 100 مسلمانوں کی افطاری اور نماز کی ادائیگی

datetime 3  جون‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام مخالف بیانات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسلمانوں کے ایک ہجوم نے ٹرمپ ٹاور کے باہر روزہ افطار کیا اور نماز ادا کی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویار ک میں ٹرمپ ٹاور کے قریب افطاری کے موقع پر تقریبا 100 مسلمان جمع ہوئے، جسے امیگرنٹ ڈیفنس گروپس کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا، اس موقع پر کئی غیر مسلم حامی بھی موجود تھے۔

شرکا سڑک کنارے بیٹھ گئے اور چاول، چکن اور پیزا پر مشتمل افطاری کی۔دوسری جانب اس موقع پر پولیس بھی موجود تھی جو گروپ کی کڑی نگرانی کر رہی تھی، جیسا کہ ٹرمپ ٹاور کے اطراف ہر گروپ پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔واضح رہے کہ مین ہٹن میں واقع ٹرمپ ٹاور، ٹرمپ کے بزنس امپائر کا دل ہے، جہاں خاتون اول میلانیا ٹرمپ اپنے چھوٹے بیٹے بارون کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔ایک 26 سالہ مسلمان امریکی خاتون فاتوماتا واگاہ کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جانے والی منفی بیان بازی کی مذمت کے ساتھ ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔نیویارک سے تعلق رکھنے والی ایک یہودی پناہ گزینوں کی تنظیم کی سرگرم کارکن 31 سالہ میگی گلاس بھی وہاں موجود تھیں، جن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مسلمان پڑوسیوں اور دوستوں کو سپورٹ کرنے کے لیے یہاں آئی ہیں۔اس ایونٹ کا انعقاد کرنے والی لنڈا سارسور کا کہنا تھا، ‘میں نے سوچا کہ بحیثیت ایک کمیونٹی یہی وقت ہے ایک دوسرے کے قریب آنے کا اور اتحاد کا مظاہرہ کرنے کا’، ساتھ ہی انھوں نے ایونٹ کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ان کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ سابق امریکی صدور کی طرح ٹرمپ نے اس مرتبہ مسلمانوں کو افطار کے موقع پر وائٹ ہاس مدعو نہیں کیا۔لنڈا سارسو کا کہنا تھا، ‘سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ مدعو کرتے بھی تو بھی میں مسلمانوں سے کہتی کہ وہ ایسی انتظامیہ کی توثیق نہ کریں جو تقسیم کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…