جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اہم دوست ملک میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ، بڑی تعداد میں ہلاکتیں،اقوام متحدہ اور پڑوسی ممالک سے امداد کی اپیل کردی گئی

datetime 28  مئی‬‮  2017 |

کولمبو(آئی این پی )سری لنکا میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 146ہوگئی ،امدادی کارکنوں نے کیچڑ میں پھنسے ہوئے 50 زخمیوں کو بچا لیا ، امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ابھی بھی 112 افراد لاپتہ ہیں،بارشوں اور سیلاب سے 4لاکھ 15ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں ،دوسری جانب سری لنکن حکومت نے اقوام متحدہ اور پڑوسی ممالک سے امداد کی اپیل کردی ۔

دوسری جانب جمعے کو آنے والے طوفان کے بعد مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا میں جمعے کو آنے والے طوفان کے بعد اب مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں پہنچ گئی ہیں۔اتوار کو سیلابی پانی میں کمی دیکھی گئی تاہم بہت سے دیہات میں اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔جمعے سے شروع ہونے والے تیز بارشوں کی وجہ سے علاقے میں سیلابی ریلے آئے جس سے اب تک 146 لوگ ہلاک اور پچاس ہزار سے زائد کو نکل مکانی پر مجبور ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ 112 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور مدد کے لیے فوجی کشتیاں اور ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں نے کیچڑ میں پھنسے ہوئے پچاس زخمیوں کو بچا لیا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔سری لنکن وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور پڑوسی ممالک سے امداد کی اپیل کی گئی ہے خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں تلاش اور ریسکیو آپریشن کیلئے مدد کی درخواست کی گئی ہے ۔سری لنکا کے اخبار ڈیلی مرر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انڈین نیوی کا دوسرا بحری جہاز آئی این ایس شاردل امدادی اشیا اور چھوٹی کشتیاں لے کر کولمبو پہنچ گیا ہے۔پہلا بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کرچ سنیچر کو پہنچا تھا۔

امدادی ٹیمیں بارش رکنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دور دراز علاقوں میں امداد پہنچا رہی ہیں۔کہا جارہا ہے کہ یہ گذشتہ 14 برسوں کے بعد سب سے بڑا سیلاب ہے۔ اس سے پہلے مئی 2003 میں شدید بارشوں کی وجہ سے 250 لوگ ہلاک اور دس ہزار گھر تباہ ہوگئے۔کلوٹرا ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کلوٹرا ضلع کے ویانگلا گا و ں جہاں جمعے کو آنے والے سیلاب کے بعد یہ گاؤ ں ڈوب گیا ہے۔ گھر، عبادت گاہیں، سکول اور دکانیں سب کچھ پانی کی نظر ہوگئے ہیں۔صرف اس ضلع میں 50 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ سڑکیں بھی ڈوب گئی ہیں اور رہائشی امدادی سامان اور اپنے گھروں کو جانے کے لیے کشتیوں کا استعمال کررہے ہیں، یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

علاقے میں شدید سیلاب سے علاوہ مٹی کا تودہ گرنے سے سات لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے چھ بچے تھے۔ حکام کے مطابق پانی کی سطع میں آہستہ آہستہ کمی دیکھنے کو آرہی ہے تاہم پیر کو مزید بارش کی پیشنگوئی کے بعد رہائشی خوفزدہ ہیں۔ملکی وزیر صحت راجیتھا سینارتنے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیضہ اور ملیریا کے پھیلا کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔سری لنکا میں مون سون کے موسم میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنا معمول کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…