جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بیک وقت تین طلاقیں،بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 13  مئی‬‮  2017 |

نئی دلی(آئی این پی)بھارتی سپریم کورٹ نے بیک وقت تین طلاقوں کو مسلمانوں میں نکاح ختم کرنے کی سب سے بدترین اور نامناسب قسم قرار دے دیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بیک وقت تین طلاقوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ سابق بھارتی وزیر سلمان خورشید نے عدالت کو بتایا کہ بیک وقت تین طلاقوں کے لئے عدالتی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں ہوتی

اور یہ کہ خواتین کے پاس اس بات کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ شادی کے وقت نکاح نامے میں یہ شرط عائد کر دیں کہ بیک وقت تین طلاقیں انہیں نامنظور ہیں۔عدالت نے سابق وفاقی وزیر سے کہا کہ ایسے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کی فہرست پیش کریں جہاں بیک وقت تین طلاقیں دینے پر پابندی عائد ہے جس پر بینچ کو بتایا گیا کہ پاکستان، افغانستان، مراکش اور سعودی عرب میں قانونی طور پر نکاح کے خاتمے کے لئے بیک وقت تین طلاقیں دینے کی اجازت نہیں ہے۔سینئر وکیل راج جیٹھ ملانی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینا آئینی بنیادوں پر بھی مساویانہ حقوق پر حملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینے کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے جو آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔ جیٹھ ملانی کا کہنا تھا کہ اس طرح طلاق دینے کے طریقہ کار بے رحمانہ اور قرآن کریم کے اصولوں کے بھی خلاف ہے جس کی کسی بھی صورت میں وکالت نہیں کی جا سکتی۔تین طلاقوں سے متاثرہ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دنیا کا کوئی بھی قانون شوہر کی خواہش پر بیوی کو سابقہ بیوی بنانے کی اجازت نہیں دیتا اور یہ لاقانونیت کی سب سے بڑی قسم ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیئے کہ باوجود اس کے مسلمانوں کے کچھ مسالک میں بیک وقت تین طلاقیں دینا جائز ہےلیکن پھر بھی بیک وقت تین طلاقیں دے کر نکاح ختم کرنے کا عمل مسلمانوں میں نکاح ختم کرنے کی سب سے بدترین قسم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…