جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

واپسی کا کوئی ارادہ نہیں،ہزاروں فوجیوں کی روانگی،امریکہ نے پھر افغانستان کارُخ کرلیا،حیرت انگیزفیصلہ،تفصیلات جاری

datetime 10  مئی‬‮  2017 |

کابل/واشنگٹن (آئی این پی )امریکی فوجی حکام اور محکمہ خارجہ نے طالبان کے خلاف کارروائیوں کیلئے 3000 اضافی فوجی افغانستان بھیجنے کی سفارش کردی ۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فوجی حکام اور محکمہ خارجہ نے طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے3000اضافی فوجی افغانستان بھیجنے کی سفارش کی ہے۔ان تجاویز کے تحت فوجی کمانڈرز کو طالبان کے خلاف فضائی کارروائیوں کا اختیار بھی دوبارہ حاصل ہو جائے گا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے جبکہ ان تجاویز میں یہ درخواست بھی شامل کی جا سکتی ہے کہ نیٹو ممالک بھی تین سے پانچ ہزار فوجی افغانستان بھیجیں۔اس وقت افغانستان میں نیٹو کے 13 ہزار فوجی اہلکار اور امریکہ کے آٹھ ہزار چار سو فوجی اہلکار تعینات ہیں۔افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکہ کا جنگی مشن 2014 میں ختم ہوگیا تھا تاہم افغان فوجیوں کی تربیت اور مدد کے لیے وہاں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے اہلکار تعینات ہیں۔رواں برس فروری میں افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے سینیٹ کی کمیٹی کو افغانستان میں فوج کی صورتحال پر بتایا تھا کہ انھیں ‘چند ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے’ اور انھیں تعطل ختم کے لیے مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ امریکی حکام کی جانب سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی سفارشات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب گذشتہ ماہ طالبان نے ایک فوجی اڈے پر حملے کر کے 135 افغان فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔اس کارروائی کے ایک ہفتے بعد طالبان نے ‘موسم بہار’ کی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔طالبان کی جانب سے ان کارروائیوں کو گذشتہ برس امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے طالبان رہنما ملا منصوری کی نسبت سے ‘آپریشن منصوری’ کا نام دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…