جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے کس ملک کے 32افراد کو امریکی شہریت دیدی ؟جان کر یقین نہیں کریں گے

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

نیویرک(این این آئی)امریکہ کے شہر نیویارک میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں دنیا کے 25 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 32 بچوں کو امریکی شہریت دی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس تقریب میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کے رکن جوز سیرانو بھی موجود تھے انہوں نے چھوٹے چھوٹے امریکی پرچم تھامے بچوں سے کہا کہ اس پر چم کو دیکھیں؟کسی کو بھی آپ یہ کہنے کی اجازت نہ دیں کہ آپ یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے،

یہ پرچم آپ کا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہیں ، یہ پرچم آپ کا اور میرا ہے۔ یہ ہمارا پرچم ہے۔ان بچوں کی عمریں 5 اور 13 سال کے درمیان تھیں اور ان میں زیادہ تر پرجوش تھے لیکن کبھی کبھی نروس بھی دکھائی دیتے تھے۔ تاہم حلف برداری کے تقریب کے بعد یہ تمام امریکی شہری بن گئے۔مراکش سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ سارہ نے کہا کہ یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں امریکہ کا حصہ بن گئی ہوں۔ آٹھ سالہ لوئیس ایسٹریلا جو ڈومینیکن نڑاد امریکی شہری ہیں نے کہا کہ میں بہت پرجوش ہیں اور اچھا محسوس ہوا کیونکہ میں نے یہ بھی کبھی نہیں دیکھا کہ یہاں بہت سی چیزیں ہیں جو ہم کر سکتا ہے۔ لوئیس کے والد جو خود بھی چھ سال قبل امریکہ کے شہری بنے تھے، نے کہا کہ اپنی بیٹی کی تقریب کو دیکھنا بہت اچھا لگا اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ کامیابی جو اس نے اس ملک میں رہتے ہوئے حاصل کی۔اگرچہ بچوں کو امریکہ کی شہریت دینے کی یہ ایک معمول کی علامتی تقریب تھی لیکن یہ اکثر ان کے والدین کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔امریکہ کی شہریت اور امیگریشن سروسز کے پبلک افیئرز کی افسر کیٹی ٹچاسیک نے کہا کہ (ان بچوں کے) والدین پہلے ہی امریکہ کے شہری بن چکے ہیں اور بچوں کو شہریت ملنا ان کے لیے یہ ایک آخری مرحلہ تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کے لیے اب یہ مرحلہ ختم ہو گیا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…