جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی حکومت نے خواتین کو مردوں کی ’’اجازت‘‘ سے ’’آزادی‘‘ دینے کا اعلان کردیا،تفصیلات جاری

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

ریاض(آئی این پی) سعودی حکومت نے خواتین سے متعلق نئے قانون کا اعلان کردیا جس کے تحت اب خواتین کو گھر سے باہر نکلنے سمیت دیگر خاص کام کے لیے مردوں کی اجازت لینا لازم نہیں ہوگی۔سعودی عرب کا شمار دنیا کے ان مخصوص ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین پر گھر سے تنہا نکلنے یا ڈرائیونگ کرنے پر بھی سخت پابندی ہے تاہم اب انہیں مزید اس پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عرب نیوز کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خواتین کے لیے نیا فرمان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر نکلنے یا کوئی خاص کام کرنے کے لیے اپنے خاندان کے کسی مرد کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے۔شاہی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کسی بھی کام کے لیے اسلامی شریعت کے مطابق ہی درخواست دے سکیں گی اور ان پر لازم ہے کہ ان کا کوئی بھی عمل اسلامی شریعت سے متصادم نہ ہو جب کہ یہ دعوی بھی سامنے آیا ہے کہ نئے حکم کے تحت خواتین کام کی جگہوں پر جاسکتی ہیں۔سعودی فرمانروا نے حکومتی اداروں کو مرد سرپرستوں کی شرط کو تین ماہ میں ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے اس حکم کو عام کریں جب کہ تمام سرکاری اداروں کو اس امر کی بھی نشان دہی کرنا ہوگی کہ سعودی خواتین کو کہاں کہاں کسی خدمت کے حصول یا کوئی اقدام کرنے کے لیے مرد سرپرستوں کی منظوری کی ضرورت پیش آتی ہے۔دوسری جانب خواتین کے حقوق کی تنظیم نے سعودی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس حکم نامے میں مزید کچھ وضاحتوں کی ضرورت ہے اور ہمیں مردوں کی سرپرستی کے اس نظام سے مکمل آزادی حاصل کرنا ہوگی۔ ایک اور کارکن نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا سعودی حکومت اس قانون کو مکمل طور پر ختم کرے گی

البتہ اس میں کچھ کمی ضرور کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ سعودی قانون کے تحت خواتین کو تعلیم، بیرون ملک سفر یا کسی اور کام سے باہر جانے کے لیے اپنے خاندان کے کسی شخص، بھائی، شوہر یا باپ سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…