جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دہشت گرد تنظیموں کی مدد کیوں کی؟فیس بک،ٹوئٹر اور گوگل پر مقدمہ دائر

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

کیلیفورنیا (آئی این پی )سان برنارڈینو حملہ میں مرنے والوں کے لواحقین نے فیس بک،ٹوئٹر اور گوگل پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کمپنیوں نے دہشت گرد تنظیم داعش کو سوشل میڈیا پر پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے مطابق دسمبر 2015 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں معذوروں کے سینٹر پر فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 3 افراد کے اہلخانہ نے فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر پر مقدمہ دائرکردیاہے

ورثانے  دعوی کیا ہے کہ ان کمپنیوں نے دہشت گرد تنظیم داعش کو سوشل میڈیا پر پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ۔ مذکورہ افراد کے اہلخانہ کا اصرار ہے کہ سوشل میڈیا پر داعش کے عسکریت پسندوں کو پروپیگنڈے کی اجازت دے کر، ان تینوں کمپنیوں نے گروپ کو ‘مواد کے حوالے سے مدد’ فراہم کی اور وہ سان برنارڈینو جیسے حملے کرنے کے قابل ہوگئے۔لاس اینجلس کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں 32 صفحات پر مشتمل شکایت حملے میں ہلاک ہونے والے سیرا کلے بورن، ٹن گوئین اور نکولس تھیلاسینوس نامی افراد کے اہلخانہ کی جانب سے جمع کروائی گئی۔شکایت میں کہا گیا کہ ‘ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل(یوٹیوب)کے بغیر دنیا میں سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد گروپ داعش کی دھماکا خیز پرورش ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔یادرہے کہ امریکی شہرسین برنارڈینومیں دوہزارپندرہ میں فائرنگ واقعہ میں ہلاک تین افراد کے اہل خانہ نے فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل پر مقدمہ کردیا،  متاثرہ خاندانوں کا موقف ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے داعش کو سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے اور اس کے فروغٖ کو روکنے کے لئے اقدامات نہیں کئے۔موقف میں کہا گیا ہے کہ تینوں کمپنیوں نے داعش کومیٹریل سپورٹ فراہم کی، جس کے باعث سین برنار ڈینو جیسا حادثہ ہوا۔ٹوئٹر نے مقدمے کی خبر پر تبصرے سے انکار کردیا۔یاد رہے کہ 2015 امریکی ریاست کیلیفورنیا کے  شہر سین برنارڈینو میں معذوروں کے سینٹر میں داعش کے مبینہ حامی کی فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…