نئی دہلی (آئی این پی )بھارت نے پاکستان کے ساتھ تمام مسائل کے دوطرفہ حلکے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی اور تشدد سے پاک ماحول میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کے دوطرفہ حل کیلئے ہماری حکومت کی پوزیشن میں تبدیل کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔منگل کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال بگلے نے پاک بھارت مسائل کے حل کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار ادا کرنے سے
متعلق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تمام مسائل کے دوطرفہ حل کیلئے بھارتی حکومت کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ،بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ مسائل کے دوطرفہ حل کیلئے پرعزم ہے ۔ترجمان نے کہاکہ دہشتگردی اور تشدد سے پاک ماحول میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کے دوطرفہ حل کیلئے ہماری حکومت کی پوزیشن تبدیلی نہیں ہوئی ۔گوپال بگلے نے کہاکہ ہم بین الاقومی برادری اور تنظیموں سے پاکستان سے نکلنے ولی دہشتگردی کے بارے میں انٹرنیشنل میکانزم اور مینڈیٹ کو نافذ کرنے کی توقع کرتے ہیں کیونکہ دہشتگردی ہمارے خطے اور اس سے آگے امن واستحکام کیلئے ایک واحد بڑا خطرہ ہے ۔اس سے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھاکہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرے گی ساتھ ہی انھوں نے ان خیالات کا بھی اظہار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ نکی ہیلے کا کہنا تھاکہ یہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہے اور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم کس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
بھارتی نژاد امریکی سفیر نیکی ہیلے سے جب سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکا کوئی کردار ادا کرسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا،مجھے امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے مذاکرات کا حصہ بننے کی کوشش کرے گی۔امریکی سفیر نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں کچھ ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، ہم کشیدگی دیکھ رہے ہیں جو کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتی ہے، لہذا ہمیں اتنا فعال ہونا چاہیے کہ ہم بھی مذاکرات کا حصہ بن سکیں۔نکی ہیلے کا کہنا تھا ‘میرا خیال ہے کہ آپ امریکا کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ارکان کو دیکھیں گے لیکن یہ بھی حیران کن نہیں ہوگا اگر اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حصہ لیں۔واضح رہے کہ پاک-بھارت کشیدگی کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے کسی رکن کی جانب سے یہ پہلا بیان ہے۔



















































