بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

جوہری تصادم کا امکان،سابق امریکی وزیردفاع نے خطرے سے آگاہ کردیا

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)سابق امریکی وزیردفاع  ویلیم پیرے نے ہفتے کو یہاں کہا کہ جوہری تباہی وبربادی کے بڑھتے ہوئے امکان سے دنیا کو بچانے کیلئے بین الاقوامی سوسائٹی کی وجہ سے ٹھوس کوششیں کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ پیرے نے ان خیالات کا اظہار ان کی کتاب ’’مائی جرنی ایٹ دی نیوکلیئر برنک‘‘ کے حال ہی میں جاری کئے جانے والے چینی ایڈیشن کے بارے میں ایک سیمینار میں شرکت کے بعد چینی خبررساں

رساں ایجنسی شنہوا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتائی ۔انہوں نے جوہری سلامتی میں بہتری کیلئے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ۔پیرے نے کہا کہ اس وقت سرد جنگ کے دوران کے مقابلے میں جوہری تباہی کے خطرے کا کہیں زیادہ امکان ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکاگو میں قائم بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نے جنوری میں ’’علامتی تباہی کے دن کی گھڑی‘‘کو64برسوں میں نصب شب کے اپنے قریب ترین وقت کے قریب کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عوام کو بلا امتیاز اپنی قومیت کے مستقبل کی نسل جوہری تباہی وبربادی کے خوف کے بغیر اپنی زندگیاں بسر کرنے کا موقع دینے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی لینی چاہیے۔پیرے نے کہا کہ وہ 1979میں کسی روز علی الصبح3بجے ایک ٹیلی فون کال پر گہری نیند سے بیدار ہوئے ۔ یہ ٹیلی فون کال نارتھ امریکن ایرو سپیس ڈیفنس کمانڈ کے ایک فوجی جنرل کی تھی جس نے کہا کہ اس کے کمپیوٹروں نے روس کی طرف سے 200میزائلوں کو امریکہ کی طرف آتے ہوئے دکھایا ہے ۔ پیرے کو جو اس وقت نائب وزیر برائے تحقیق وانجیئنرنگ تھے ۔ بقول ان کے ’’ہمارے سسٹم کی انسانی غلطی‘‘کا پتہ چلانے کیلئے کئی روز لگے ۔انہوں نے کہا کہ جب کمپیوٹر آپریٹروں نے شفٹ تبدیل کی تو نئے آپریٹر نے غلطی سے کمپیوٹر میں ایک ٹریننگ ٹیپ لگادیا جو حقیقی حملے کے منظر کی طرح دکھائی دینے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

اپنے تمام تر حفاظتی پہلوؤں کے ساتھ سسٹم اب بھی واحد انسانی غلطی کے لئے قابل تسخیر تھا جس کی وجہ سے تہذیب کے خاتمے کا امکان تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتفاقی جوہری جنگ کے انتہائی خطرے کے علاوہ دنیا کو علاقائی جوہری جنگ اور جوہری دہشت گردی کے حملے کے خطرے کا بھی سامنا ہے جو کہ کسی بھی لحاظ سے ’’ایک دور دراز امکان‘‘ہے اور اس کے دنیا بھر میں ’’سنگین اور دیرپا نتائج برآمد ہونے کے امکان ہوسکتے ہیں ۔ عالمی ڈی نیوکلائریشن کے چینی عزم کو سراہتے ہوئے سابق امریکی وزیردفاع نے کہا چین نے کئی دہائیوں تک کم ازکم مدافعتی فورس برقرار رکھ کر صبر وتحمل کی ایک مثال قائم کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کل کی تمام نمایاں قوتوں کوکسی حد تک دہشت گردی کے خطرے کا سامناہے اس کے علاوہ انہیں جوہری دہشت گردی کے ذریعے بدترین ممکنہ کیس کے بھی خطرے کا سامنا ہے ۔

پیرے جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے بارے میں ممتاز امریکی ماہر بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اکٹھا کام کرنے کیلئے امریکہ اور چین کیلئے بڑا محرک میرے خیال میں یہ ہے کہ دہشت گردی اور جوہری پھیلاؤ کا مقابلہ کیا جائے۔دوسری جنگ عظیم کے ریٹائرڈ فوجی جنہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے کئی برس ڈی نیوکلرلائزیشن کی وکالت میں گزارے ہیں بیجنگ میں قائم تھنک ٹینک اصلاحات اور ترقیاتی مطالعے کی سٹک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمینار میں شرکت کیلئے بیجنگ آئے ہوئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…