پیر‬‮ ، 08 دسمبر‬‮ 2025 

جوہری تصادم کا امکان،سابق امریکی وزیردفاع نے خطرے سے آگاہ کردیا

datetime 18  مارچ‬‮  2017 |

بیجنگ(آئی این پی)سابق امریکی وزیردفاع  ویلیم پیرے نے ہفتے کو یہاں کہا کہ جوہری تباہی وبربادی کے بڑھتے ہوئے امکان سے دنیا کو بچانے کیلئے بین الاقوامی سوسائٹی کی وجہ سے ٹھوس کوششیں کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ پیرے نے ان خیالات کا اظہار ان کی کتاب ’’مائی جرنی ایٹ دی نیوکلیئر برنک‘‘ کے حال ہی میں جاری کئے جانے والے چینی ایڈیشن کے بارے میں ایک سیمینار میں شرکت کے بعد چینی خبررساں

رساں ایجنسی شنہوا کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتائی ۔انہوں نے جوہری سلامتی میں بہتری کیلئے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ۔پیرے نے کہا کہ اس وقت سرد جنگ کے دوران کے مقابلے میں جوہری تباہی کے خطرے کا کہیں زیادہ امکان ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکاگو میں قائم بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹ نے جنوری میں ’’علامتی تباہی کے دن کی گھڑی‘‘کو64برسوں میں نصب شب کے اپنے قریب ترین وقت کے قریب کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے عوام کو بلا امتیاز اپنی قومیت کے مستقبل کی نسل جوہری تباہی وبربادی کے خوف کے بغیر اپنی زندگیاں بسر کرنے کا موقع دینے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی لینی چاہیے۔پیرے نے کہا کہ وہ 1979میں کسی روز علی الصبح3بجے ایک ٹیلی فون کال پر گہری نیند سے بیدار ہوئے ۔ یہ ٹیلی فون کال نارتھ امریکن ایرو سپیس ڈیفنس کمانڈ کے ایک فوجی جنرل کی تھی جس نے کہا کہ اس کے کمپیوٹروں نے روس کی طرف سے 200میزائلوں کو امریکہ کی طرف آتے ہوئے دکھایا ہے ۔ پیرے کو جو اس وقت نائب وزیر برائے تحقیق وانجیئنرنگ تھے ۔ بقول ان کے ’’ہمارے سسٹم کی انسانی غلطی‘‘کا پتہ چلانے کیلئے کئی روز لگے ۔انہوں نے کہا کہ جب کمپیوٹر آپریٹروں نے شفٹ تبدیل کی تو نئے آپریٹر نے غلطی سے کمپیوٹر میں ایک ٹریننگ ٹیپ لگادیا جو حقیقی حملے کے منظر کی طرح دکھائی دینے کیلئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

اپنے تمام تر حفاظتی پہلوؤں کے ساتھ سسٹم اب بھی واحد انسانی غلطی کے لئے قابل تسخیر تھا جس کی وجہ سے تہذیب کے خاتمے کا امکان تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتفاقی جوہری جنگ کے انتہائی خطرے کے علاوہ دنیا کو علاقائی جوہری جنگ اور جوہری دہشت گردی کے حملے کے خطرے کا بھی سامنا ہے جو کہ کسی بھی لحاظ سے ’’ایک دور دراز امکان‘‘ہے اور اس کے دنیا بھر میں ’’سنگین اور دیرپا نتائج برآمد ہونے کے امکان ہوسکتے ہیں ۔ عالمی ڈی نیوکلائریشن کے چینی عزم کو سراہتے ہوئے سابق امریکی وزیردفاع نے کہا چین نے کئی دہائیوں تک کم ازکم مدافعتی فورس برقرار رکھ کر صبر وتحمل کی ایک مثال قائم کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کل کی تمام نمایاں قوتوں کوکسی حد تک دہشت گردی کے خطرے کا سامناہے اس کے علاوہ انہیں جوہری دہشت گردی کے ذریعے بدترین ممکنہ کیس کے بھی خطرے کا سامنا ہے ۔

پیرے جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے بارے میں ممتاز امریکی ماہر بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اکٹھا کام کرنے کیلئے امریکہ اور چین کیلئے بڑا محرک میرے خیال میں یہ ہے کہ دہشت گردی اور جوہری پھیلاؤ کا مقابلہ کیا جائے۔دوسری جنگ عظیم کے ریٹائرڈ فوجی جنہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے کئی برس ڈی نیوکلرلائزیشن کی وکالت میں گزارے ہیں بیجنگ میں قائم تھنک ٹینک اصلاحات اور ترقیاتی مطالعے کی سٹک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمینار میں شرکت کیلئے بیجنگ آئے ہوئے ہیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات


میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…

فیلڈ مارشل کا نوٹی فکیشن

اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں 2008ء میں شادی کا ایک…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)

جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…