بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

روس اورچین کا ایکا،امریکہ اوراس کے اتحادیوں کو جھٹکادیدیا،بڑا منصوبہ ناکام

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

نیویارک(آئی این پی)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام میں نئی پابندیاں عائد کرنے سے متعلق قرارداد روس اور چین نے ویٹو کردی۔اس قرارداد کا مسودہ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا تھا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں 9 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 3 ممالک بولیویا، چین اور روس نے اس کی مخالفت کی ہے

۔ 3 غیر مستقل رکن ممالک ایتھوپیا، قازقستان اور مصر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ مغربی ممالک نے یہ قرارداد اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی مشترکہ تحقیقات کے بعد پیش کی تھی۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لیے اس کے حق میں 9 ووٹ اور ویٹو کا نہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ساتواں موقع ہے جب شام کے سب سے قریبی فوجی اتحادی روس نے اس کے حق میں اپنی ویٹو پاور استعمال کی ہے۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے لیے اس کے حق میں 9 ووٹ اور ویٹو کا نہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ساتواں موقع ہے جب شام کے سب سے قریبی فوجی اتحادی روس نے اس کے حق میں اپنی ویٹو پاور استعمال کی ہے۔  چین بھی شام مخالف قراردادوں پر 6 بار روس کا ساتھ دے چکا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب نکی ہیلے نے رائے شماری کے بعد کونسل کو بتایا کہ شام سے متعلق یہ قرارداد بالکل مناسب ہے لیکن یہ مایوس کن ہے جب ارکان اپنے ہی لوگوں کو مارنے والی دیگر رکن ریاستوں کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔اگر یہ قرارداد منظور ہوجاتی تو فوجی کمانڈروں سمیت 11 شامی افراد اور 10 کمپنیاں اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہوجاتیں جن پر 2014 اور 2015 کے دوران کیمیائی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…