بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر کے سیاستدان دنیا میں کس خطرناک چیز کو تشکیل دے رہے ہیں ؟ رپورٹ نے تہلکہ مچادیا

datetime 23  فروری‬‮  2017 |

لندن (آئی این پی)حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جو سیاستدان تفریقی اور انسانی اقدار کے مخالف بیان بازی کرتے ہیں وہ ایک خطرناک اور منقسم دنیا تعمیر کر رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تفریقی اور منقسم سیاست کی ایک مثال کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کے علاوہ رپورٹ میں ترکی، ہنگری، اور فلپائن کے

 

رہنمائوں کی بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رہنما خوف، تقسیم اور الزام بازی کا ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں فلپائن کے صدر دوترتے، ترکی کے طیب اردوغان، اور ہنگری کے اوربان کی بھی تنقید کی گئی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ مختلف حکومتیں تارکینِ وطن کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔159 ممالک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے والی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہی ماحول جاری رہا تو دنیا میں لوگوں پر نسل، صنف، قومیت، اور مذہب کی وجہ سے حملوں میں اضافہ ہوگا۔رپورٹ میں کیے گئے جنوبی ایشیا کے جائزے کے مطابق خطے میں انسانی حقوق کی فراہمی میں پریشان کن تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ مختلف حکومتوں کی جانب سے قومی خودمختاری اور سکیورٹی کو وجہ بنا کر انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے کام کرنے کی گنجائش میں کمی کرنا اور ان کی آزادی کو تلف کرنے کے اقدامات ہیں۔رپورٹ میں انڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی راج کے دور کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کو تلف کیا گیا اور حکومت کے ناقدین کی آواز کو دبایا گیا۔پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور بلاگرز کو حکومتی اور غیر حکومتی

 

عناصر دونوں ہی سے اغوا، بے جا گرفتاریوں، اور ہراساں کیے جانے کے خطرات کا سامنا رہا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے بجائے بہت سے رہنما سیاسی مقاصد کے لیے انسانی اقدار کے مخالف ایجنڈا سنبھالے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیا قابلِ قبول ہے، اس کی حد بدلتی جا رہی ہے۔ سیاست دان بے شرمی سے لوگوں کی شناخت کی بنیاد پر نسل

پرستی، صنف پرستی، اور ہم جنس پرستی کے مخالف نفرت انگیز بیان بازی اور پالیسیوں کو جائز بنا رہے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…