بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’بس ایک یہ کام ہو جائے تو میں دبئی جیسے چار شہر آباد کرنے کے ساتھ ساتھ 2 متحدہ عرب امارات بنا سکتا ہوں ‘‘

datetime 14  فروری‬‮  2017 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات کے عالمی تجارتی وسیاحتی مرکز دبئی کے حکمراں حاکم دبئی الشیخ محمد بن راشد کو ملک و قوم کی خدمت میں ہمہ وقت متحرک رہنماوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس راز سے بھی پردہ اٹھایا کہ وہ اگرانہیں دن میں 24 کے بجائے 84 گھنٹے میسر آئیں

تو وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں؟ الشیخ محمد بن راشد اپنی صبح کا آغاز ورزش سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھڑ سواری، موٹرسائیکل سواری، دفاتر کا دورہ، ملازمین سے ملاقاتیں، مختلف منصوبوں کے جائزے، لینے کے بعد امارات کی دوسری ریاستوں ابو ظہبی، دبئی اور دیگر شہروں کا وزٹ کرتے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے اور جاری منصوبوں پر غور کے بعد کچھ وقت عام لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہوتے اور آخر میں کچھ وقت اپنے بچوں کے ساتھ گذارتے ہیں۔میں اپنے وقت کا استعمال ملک و قوم کی بہود کے لیے غور پرگزارتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ آج کے دن میں قوم اور ملک کو کیا نئی چیز دے سکتا ہوں۔ یہ غور وفکرہمیں کوئی نا کوئی آئیڈیا دیتا ہے اور ہم سب مل کر اسے عملی شکل میں ڈھالنے کی محنت شروع کردیتے ہیں۔مگر وہ ایک ہی روز یہ سب کچھ کیسے ترتیب دے پاتے ہیں۔ محمد بن راشد نے کہا کہ اگر ہمارے پاس، اماراتی حکام کے پاس اور اماراتی قوم کے پاس 84 گھنٹے ہوں تو ہم دبئی جیسے چار شہر آباد اور

دو متحدہ عرب امارات بنا سکتے ہیں۔اس کے بعد الشیخ محمد بن راشد اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور عوام سے خطاب کیا جس میں انہوں نے وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ وقت سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں۔ وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور پھر واپس نہیں لوٹتا۔ ہم کیوں نا روزانہ کی بنیاد پر کوئی نئی چیز سیکھیں؟ وقت بہتے پانی کے دھارے کی طرح ہے۔ اگر ہم اسے چھوئیں گے نہیں تو وہ بہتا رہے گا۔ اس لیے ہمیں جسمانی ورزش کیلیے وقت نکالنے کے ساتھ تامل اورغور فکر کے لیے بھی وقت نکالنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…