ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

مسلم ممالک پر سفری پابندیاں، ٹرمپ کی اپیل پر عدالت نے فیصلہ سنادیا

datetime 11  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(آئی این پی) امریکا کی اپیلیٹ کورٹ نے ٹرمپ حکومت کی اپیل مسترد 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکامیں داخلے پر پابندی لگانے کے صدارتی حکم نامے پر عمل معطل رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ 29 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے نظرثانی کی اس درخواست کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ امریکہ کے تحفظ کیلیے ضروری ہے؛ اور یہ کہ مذکورہ صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد روکنے کا فیڈرل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔

قبل ازیں اپیلیٹ کورٹ کے تینوں جج صاحبان نے سماعت کے دوران فریقین کے وکلا سے سخت سوالات بھی کئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدارتی وکیل ایسے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ صدارتی حکم نامے کے تحت سفری پابندیوں کی زد میں آنے والے سات ممالک یعنی ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں نے ماضی میں امریکہ آکر دہشت گردی کی ہو۔فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ سماعت کے دوران صدارتی وکیل نے مختلف مواقع پر حکم نامے کی الگ الگ تشریحات کیں اور اس حکم نامے کی قانونی حیثیت سے متعلق ابہام پیدا کیا۔ فیصلے میں جج صاحبان نے لکھا: اگرچہ صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کا استحقاق ہے کہ وہ تارکینِ وطن اور قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں میں ضروری ردوبدل کریں لیکن ان (ٹرمپ)کے دعوے اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ قومی سلامتی کے بارے میں (ان کے)خدشات پر نظرثانی ممکن نہیں، چاہے ان کے اقدامات آئین کے تحت فراہم کردہ حقوق اور تحفظ میں مداخلت کے مترادف ہی کیوں نہ ہوں۔اپیل کورٹ میں شکست کے فورا بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے غصے کے عالم میں ٹویٹ کیا کہ کورٹ میں دیکھ لوں گا، ہماری قوم کا تحفظ دا پر لگا ہے۔جبکہ وائٹ ہاس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا اور بتایا کہ اب وہ اپنا مقدمہ امریکی سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اب تک انہوں نے نئے اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے بھی کوئی بات نہیں کی ہے لیکن آئندہ لائحہ عمل وہ ان ہی کے مشورے سے طے کریں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…