بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم ممالک پر سفری پابندیاں، ٹرمپ کی اپیل پر عدالت نے فیصلہ سنادیا

datetime 11  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) امریکا کی اپیلیٹ کورٹ نے ٹرمپ حکومت کی اپیل مسترد 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکامیں داخلے پر پابندی لگانے کے صدارتی حکم نامے پر عمل معطل رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ 29 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے نظرثانی کی اس درخواست کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ امریکہ کے تحفظ کیلیے ضروری ہے؛ اور یہ کہ مذکورہ صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد روکنے کا فیڈرل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جائے۔

قبل ازیں اپیلیٹ کورٹ کے تینوں جج صاحبان نے سماعت کے دوران فریقین کے وکلا سے سخت سوالات بھی کئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدارتی وکیل ایسے ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ صدارتی حکم نامے کے تحت سفری پابندیوں کی زد میں آنے والے سات ممالک یعنی ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں نے ماضی میں امریکہ آکر دہشت گردی کی ہو۔فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ سماعت کے دوران صدارتی وکیل نے مختلف مواقع پر حکم نامے کی الگ الگ تشریحات کیں اور اس حکم نامے کی قانونی حیثیت سے متعلق ابہام پیدا کیا۔ فیصلے میں جج صاحبان نے لکھا: اگرچہ صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کا استحقاق ہے کہ وہ تارکینِ وطن اور قومی سلامتی سے متعلق پالیسیوں میں ضروری ردوبدل کریں لیکن ان (ٹرمپ)کے دعوے اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ قومی سلامتی کے بارے میں (ان کے)خدشات پر نظرثانی ممکن نہیں، چاہے ان کے اقدامات آئین کے تحت فراہم کردہ حقوق اور تحفظ میں مداخلت کے مترادف ہی کیوں نہ ہوں۔اپیل کورٹ میں شکست کے فورا بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے غصے کے عالم میں ٹویٹ کیا کہ کورٹ میں دیکھ لوں گا، ہماری قوم کا تحفظ دا پر لگا ہے۔جبکہ وائٹ ہاس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا اور بتایا کہ اب وہ اپنا مقدمہ امریکی سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اب تک انہوں نے نئے اٹارنی جنرل جیف سیشنز سے بھی کوئی بات نہیں کی ہے لیکن آئندہ لائحہ عمل وہ ان ہی کے مشورے سے طے کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…